Sunday, 1 October 2017

کیمپس ۔۔۔۔امجد جاوید۔۔۔ قسط نمبر13

کیمپس
امجد جاوید
قسط نمبر13
اس شام کیمپس کے آڈیٹوریم میں ایک دوسرے ڈپیارٹمنٹ کے طلبہ و طالبات کی ایک تقریب تھی۔ اس ڈپیارٹمنٹ کے زیادہ تر لوگ اسد کے حق میں تھے۔ انہوں نے اسے خصوصی طور پر بلوایا ہوا تھا۔ میں نے سبز زار جاتے ہی اس سے فرخ کی کال بارے میں طویل بات کی تھی۔ تب اس نے شام کے وقت آنے کا کہا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ تھوڑی سی دیر اس تقریب میں جائے گا اور پھر وہاں سے سبزہ زار آجائے گا۔ وہ چاہتا تھا کہ ساتھ میں رخشندہ کو بھی لے آئے تاکہ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کر لیا جائے۔ میں مغرب سے ذرا پہلے تیار ہو کر ان کے انتظار میں بیٹھ گیا تھا۔ مجھے پورا یقین تھا کہ ان کے ساتھ کاشف ضرور آئے گا۔ میں اپنے طور پر ماہم کے بارے میں سوچتا رہا تھا۔ کینٹین سے اٹھ کر جانے سے لے کر اب تک اس کی کوئی کال تک نہیں آئی تھی۔ میں امید و بیم کی کیفیت میں آگیا۔ فرخ چوہدری اتنا بڑا جھوٹ بول نہیں سکتا تھا۔ اگر وہ درست کہہ رہا تھا تو پھر ماہم کی پوزیشن انتہائی درجے کی مشکوک ہو جاتی تھی۔ ایسے حالات میں مجھے ماہم سے انتہائی درجے کا محتاط ہو جانا چاہئے تھا۔ ورنہ میں کسی بھی وقت اس کے سامنے کھل سکتا تھا اور میرا سارا منصوبہ دھرے کا دھرا رہ جاتا۔ مجھے نہ تو کیمپس پر آفت سے کوئی مطلب تھا اور نہ ہی ان کی سیاست سے کوئی غرض تھی۔ مجھے تو صرف اپنا مقصد چاہئے تھا، جو نزدیک آتے آتے اچانک بہت دور ہو گیا تھا۔میں نے ماہم کے تعلق اور قربت کو جس قدر آسان سمجھا تھا۔ اب اتنی ہی مشکل سطح پر آ گیا تھا۔ درمیان میں اگر یہ کیمپس کی سیاست نہ آتی تو شاید ہم قربت کی کس اور ہی راہ پر چل رہے ہوتے۔ ماہم کا حصول میرے لیے بہت مشکل دکھائی دے رہا تھا۔ اس پر مجھے دلی طور پر افسو س ہو رہا تھا۔ اس وقت میں انہی سوچوں میں کھویا ہوا تھا کہ سلیم میرے پاس آگیا۔ وہ بڑے خوشگوار موڈ میں تھا۔ اس لیے مسکراتے ہوئے بولا۔
”سنائیں سر جی، بڑے خاموش ہیں۔ کچھ سوچ رہے ہیں کیا؟“
میں اس کے سوال کے جواب میں فرخ چوہدری کی کال بارے بتا دینا چاہتا تھا مگر نہ جانے کیوں میں خاموش ہو گیا۔ میرا دل نہیں چاہا کہ میں اس بابت اسے فوری طور پر بتا دوں۔ اس لیے میں بھی مسکراتے ہوئے بولا۔
”بس یار یونہی اکیلا بیٹھا تھا۔ اب اگر میں خود سے باتیں کروں گا تو لوگ مجھے پاگل ہی کہیں گے نا“۔
میرے یوں کہنے پر وہ ہنس دیا۔ پھر ہم یونہی ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔ تبھی میرے ذہن میں ایک خیال آیا تو میں نے اس سے پوچھا ۔
”یار ایک بات تو بتاﺅ، تم ماہم کے سامنے کیوں نہیں جاتے ہو۔ کیا وہ تمہیں پہچان لے گی اور اگر وہ پہچان لے گی تو تمہارا اس کے ساتھ ایسا کیا....“ میں نے کہنا چاہا تو وہ میری بات قطع کرتے ہوئے بولا۔
”سر جی، وہ نہیں جانتی کہ میں کون ہوں اور نہ ہی یہ پہچان وغیرہ کا کوئی مسئلہ ہے سمجھ لیں کہ میں محتاط ہوں۔ جب تک میں اس سے چھپ سکتا ہوں، اتنا ہی اچھا ہے“۔
”کیوں؟“ میں نے اصرار کرتے ہوئے پوچھا۔
”سرجی، بعض اوقات مجھے اس کے پیچھے بھی جانا ہوتا ہے بلکہ کچھ عرصہ تو میں باقاعدہ اس کی حرکات و سکنات کو دیکھتا رہا ہوں۔ ممکن ہے وہ مجھے دیکھ چکی ہو ، جانتی ہو، یا اس حوالے سے مجھے پہچانتی ہو وہ جو میں نے اس کے بارے میں آپ کو معلومات دی تھیں، اس کی یہی وجہ تھی۔ یہ بھی ممکن ہے وہ مجھے نہ پہچانتی ہو۔ بس میں محتاط ہوں اور کوئی بات نہیں ہے“۔
اس سے پہلے کہ میں کوئی بات کرتا، میرا سیل فون بج اٹھا۔ وہ رابعہ کی کال تھی۔ کال ریسیوکی تو دوسری طرف وہ تقریباً چیختے ہوئے بولی۔
”ابان ....!اگر ہو سکے تو فوراً پہنچو“۔
”کہاں اور کیوں.... کیا ہو گیا؟“ میں نے پوچھا تو وہ تیزی سے کہتی چلی گئی۔
”اسد نے جس تقریب میں جانا تھا۔ اس پر کافی تنازع اٹھ گیا ہے۔ تقریب والے لوگ میوزک وغیرہ بجانا چاہتے تھے لیکن مخالف تنظیم نے اس ایشو کو اٹھا کر طلبہ کو بھڑکا دیا ہے۔ وہ لوگ آڈیٹوریم پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں، ممکن ہے معاملہ بہت زیادہ بگڑ جائے، تم فوراً پہنچو۔ یہاں سب ایک دوسرے کو کال کر رہے ہیں“۔
”اوکے....! میں پہنچتا ہوں“۔ میں نے کہا اور فون بند کر کے کھڑا ہو گیا۔ ظاہر ہے اب مجھے سلیم کو بتانا تھا ، وہ ساری بات سن کر بولا۔
”سرجی، آپ گاڑی نکالیں میں بھی آپ کے ساتھ چلتا ہوں“۔ یہ کہتے ہوئے وہ تیزی سے اندر کی جانب چلا گیا۔ میں نے چند لمحے سوچا اور گاڑی نکالنے لگا۔ جب تک میں گاڑی گیراج سے گیٹ تک لایا سلیم آگیا۔ اس کے ہاتھ میں ری پیٹر گن تھی۔ میرے ساتھ پسنجرسیٹ پر بیٹھتے ہی میں نے گاڑی بڑھا دی۔ راستے میں اس نے ایک ریوالور ڈیش بورڈ میں رکھ دیا جہاں پہلے ہی میرا کولٹ ریوالور پڑا ہوا تھا۔
”سرجی، یہ اپنا ریوالور اپنے پاس رکھیں۔ یہ یہاں ضرورت کے لیے رکھا ہے۔ میں وہاں پر آپ کا گن مین ہوں گا“۔ اس پر میں نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ بلکہ پوری توجہ سے گاڑی بڑھاتا ہوا کیمپس جا پہنچا۔ میں نے راستے میں اسد سے پوچھ لیا تھا کہ وہ کہاں پر ہیں۔ میں ان کے پاس جا پہنچا۔ وہ سب ہاسٹل کے باہر اکٹھے ہو رہے تھے۔ سلیم انہی میں کہیں غائب ہو گیا تھا۔
”انہوں نے جان بوجھ کر یہ ہنگامہ کیا ہے۔ مجھے ان کی طرف سے کل ہی سے خبریں مل رہی تھیں“۔ اسد نے مجھے بتایا۔
”تو اب تم کیا کرنا چاہتے ہو؟“ میں نے پوچھا۔
”ان لوگوں نے آڈیٹوریم پر قبضہ کیا ہو ا ہے۔ کسی کو اندر نہیں جانے دے رہے ہیں۔ جو لوگ وہاں تھے، انہیں بھی بھگا دیا ہے۔ ان سے ڈپیارٹمنٹ والوں کی بات چل رہی ہے۔ مان گئے تو ٹھیک ورنہ وہ قبضہ تو چھڑانا ہے“۔ اسد نے حتمی انداز میں کہا۔
”اوکے....! لیکن اندھیرا ہو جانے سے پہلے پہلے....“ میں نے کہا تو وہ بولا۔
”پانچ منٹ مزید انتظار کرنا ہے۔ ابھی ان کی کال آتی ہو گی اور کاشف بھی اس انتظار میں دوسری طرف موجود ہے“۔
اس نے مجھے معلومات دیں ۔ تو میں کافی حد تک مطمئن ہو گیا۔ انہوں نے پلان کر لیا ہوا تھا۔ یہ تصادم ہونا ہی تھا۔ وہ جو چند دن سے خاموشی چھائی ہوئی تھی، وہ اپنے منطقی انجام تک آپہنچی تھی۔
بے چینی پورے عروج پر تھی۔ ہاسٹل کے باہر لڑکوں کا ہجوم تھا، ایک نگاہ میں انہیں گنانہیں جا سکتا تھا۔ ان میں سے زیادہ لڑکوں کے پاس اسلحہ تھا۔ اگرچہ اس وقت ہماری وقتی جیت کے لیے وہ ہمیں بہت اچھے لگ رہے تھے مگر اس کے ساتھ میرے ذہن میں ایک دکھ بھری یہ سوچ بھی گردش کر رہی تھی کہ یہ لوگ تو علم حاصل کرنے یہاں آتے ہیں۔ ان کا لڑائی جھگڑے، اسلحہ بارود سے کیا واسطہ؟ کس نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کردیا ہے یہ صرف اور صرف اس گندی سیاست کا شاخسانہ ہے جس کی بنیاد ہی منافقت اور سازش پر تیار ہوتی ہے۔ کسی بھی ملک کا انسانی وسائل انہی نوجوانوں سے نکلتا ہے۔ جنہیں ایسی مادرِ علمی میں تعلیم و تربیت سے سنورا اور نکھارا جاتا ہے، میرے وطن میں سیاست نے اس نوجوان کو نگل لیا ہے۔ اسے زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی بجائے، ذہنی اذیت، برائی، کرپشن اور معاشرتی بوجھ کی اَن دیکھی زنجیروں میں جکڑ دیا ہوا ہے۔ وہ ساری عمر یونہی پابہ زنجیر رہتے ہیں، کبھی آزاد نہیں ہو سکتے۔ مذہبی شدت پسندی ایک ایسا عمل ہے،جس سے ہماری نوجوان نسل اگر دین کے قریب جاتی ہے، اسے اپناتی ہے تو وہ سب فرقہ بندی میں بٹ کر ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے ایک دوسرے کے دشمن بنے رہتے ہیں۔ مذہبی ٹھیکیداروں نے اس انسانی وسائل کو بری طرح استعمال کیا ہے۔ فرقہ بندی میں پھنساکے اور خوف زدہ فضا میں ڈال کر انہیں اپنی راہ پر چلنے کے لیے مجبور کر دیا ہواہے۔ ان کی اپنی سوچ رہتی ہی نہیں۔ وہ پھر انہی مذہبی ٹھیکیداروں کی سوچ پر آنکھیں بند کر کے عمل پیرا ہوتے ہیں۔ اس ردِعمل میں نوجوانوں کا ایک دوسرا گروہ ہے جو اس شدت پسندی اور الجھنوں کی تاب نہ لاتے ہوئے دین سے دور ہوتا چلا جارہا ہے۔ وہ اپنی دنیا میں مست ہی نہیں خود کو ان کا متحارب خیال کرتا ہے۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے لڑائی جھگڑے کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ ہم اپنی قوت خود پر ہی خرچ کر کے بے دست و پا ہوئے بیٹھے ہیں۔ 
اب یہی معاملہ جو ہمیں درپیش تھا اس کی بنیاد میں بھی فقط یہی وجہ تھی۔ مذہبی تنظیم کے افرد نے آڈیٹوریم پر اس لیے قبضہ کر لیا کہ یہاں میوزک کا پروگرام نہیں ہونا چاہئے، جبکہ دوسرے ردعمل کے طور پر ہتھیار اٹھا کر کھڑے تھے۔ اصل سوال یہی تھا کہ آخر وہ کون لوگ ہیں جو انہیںاس سطح پر لے آئے ہیں کہ وہ آمنے سامنے اسلحہ تان کر کھڑے ہو جائیں۔ میں یہ معاملہ پوری طرح سمجھ رہا تھا کہ یہ فقط کیمپس پر گرفت کرنے کی جنگ ہے اور دونوں فریقین نے عام لڑکوں کے جذبات سے کھیل کر انہیں اپنے مقصد کے لیے استعمال کر لیا ہوا تھا۔ ان میں سے جو بھی جیت جاتا یا ہار جاتا، بنیادی طور پر نقصان کس کا ہے؟ ہم اگر ایک لمحے کے لیے سوچیں تو کیا شدت پسندی، ہمیں اس مقام تک نہیں لے آئی چاہے وہ مذہبی ہے یا غیر مذہبی؟ لہو کس کا بہنا تھا اور بہہ گیا ہوا لہو انہی سڑکوں پر جم کر خشک ہو جاتا اور پھر گزرتے ہوئے ہر لمحے کے ساتھ بے وقعت ہو جاتا۔ ایسا رائیگاں ہولہو کتنا بہہ گیا ہے، کیا ہم نے کبھی سوچا؟
اسد کا فون بج گیا تو نہ جانے میرے بدن میں سنسنی کی لہر کیوں دوڑ گئی۔ بے ساختہ میرے منہ سے نکل گیا کہ اﷲخیر کرے۔ وہ چند لمحے سیل فون کان سے لگائے سنتا رہا۔ پھر فوراً ہی فون بند کر کے اپنے اردگرد کھڑے لڑکوں سے بولا۔
”چلو.... ! حملے کا وقت آگیا ہے؟“ یہ کہتے ہوئے وہ تیزی سے اپنی کار کی جانب بڑھ گیا۔ اس کی تقلید میں دوسرے بھی کاروں ، جیپوں اور موٹر بائیک پر سوار ہو کر نکل پڑے۔ وہ تقریباً چالیس پچاس لڑکے ہوں گے۔ سبھی آڈیٹوریم کی جانب تیزی سے جارہے تھے۔ مجھ سے آگے کچھ گاڑیاں تھیں اور کئی موٹر بائیک تھے۔ چند منٹوں میں وہ فاصلہ طے ہو جانا تھا۔ آڈیٹوریم کے سامنے کافی سارا کھلا میدان تھا۔ وہ سارے وہیں جا کر رک گئے۔ سامنے بہت سارے لوگ کھڑے تھے۔ کچھ افرادچھت پر گنیں تانے ہوئے تھے۔ میں سمجھ نہیں پارہا تھا کہ یہ اسدکرنا کیا چاہ رہا ہے۔ ہمارے رکتے ہی لڑکیوں کا ایک گروپ دائیں جانب سے نکلا اور آڈیٹوریم کے دروازے کی جانب بڑھا۔ اس کی قیادت رابعہ کر رہی تھی۔ اس وقت مجھے حیرت کا ایک جھٹکا لگا جب میں نے اس کے ساتھ ذرا فاصلے پر ماہم کو جاتے ہوئے دیکھا۔ اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا اور آنکھیں تنی ہوئی تھیں۔ میں اگلے ہی لمحے ریوالور اپنے ہاتھوں میں لیے گاڑی سے باہر آگیا۔ میں نے جیسے ہی زمین پر قدم رکھا۔ تبھی میری دائیں جانب سے آواز آئی۔
”سر آپ اندر بیٹھو، جب ضرورت ہو گی تو باہر آجائیے گا“۔
میں نے آواز کی سمت دیکھا تو وہ ایک موٹر بائیک کی پچھلی نشست پر گن لئے ہوئے بیٹھا تھا۔ اس کے آگے جو بیٹھا تھا وہ قطعاً بھی کیمپس کا طالب علم نہیں تھا۔ میں نے اسے گھورتے ہوئے پوھا۔
”تم کہاں چلے گئے تھے....“
”کہیں بھی نہیں، آپ کے ساتھ ساتھ تھا اور دوسری بات ذرا سا بھی کچھ ایسا ویسا محسوس کریں تو فوراً نکل جایئے گا۔ کسی کا بھی انتظار کیے بغیر، رسک نہیں لینا“۔ لفظ ابھی اس کے منہ ہی میں تھے کہ رابعہ دروازے تک جا پہنچی۔ وہاں بھی چند لڑکیاں کھڑی ہوئی تھیں۔ انہوں نے رابعہ اور اس کی ساتھی لڑکیوں کو روک لیا۔ ان میں تیز تیز تکرار ہونے لگ گئی تھی۔ اسی دوران نہ جانے کب کس نے اوپر سے ہوائی فائرنگ شروع کر دی۔ پھر ایک دم سے ہڑبونگ مچ گئی۔ لڑکیاں چیختی ہوئی ایک جانب نکل گئیں۔ جب کہ ہماری اور مذہبی تنظیم کے لوگوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہونے لگا۔ میں نے گاڑی کی اوٹ لی اور گولیاں چلانے لگا۔ میں حیران تھا کہ اوپر سے فقط ایک بار ہی فائرنگ ہوئی، پھر اس کے بعد خاموشی چھا گئی تھی۔ سامنے والے لڑکے برآمدے اور آڈیٹوریم کے اندر تھے۔ فائرنگ زوروں پر ہونے لگی تھی۔ تقریباً تین یا چار منٹ کے عرصے کے دوران آڈیٹوریم کے اندر فائرنگ شدید ہو گئی۔ اس کے ساتھ بہت ساری چیخیں بھی بلند ہوئیں۔ میں ایک لمحے میں سمجھ گیا۔ کاشف نے جو پلاننگ کی ہوئی تھی، وہ کامیاب ہو گئی تھی۔ وہ پہلے ہی کہیں چھت کے قریب تھا۔ جیسے ہی اوپر سے فائرنگ ہوئی، وہیں انہوں نے ان چند لوگوں کو قابو کر لیا جو وہاں موجود تھے۔ پھر وہیں سے نیچے اتر کر اندر سے ان کے عقب میں آگئے تھے۔ اب مذہبی تنظیم والوں کے پاس دو ہی آپشن تھے ، بھاگ جائیں یا اپنی جان دے دیں۔ انہوں نے پہلا آپشن ہی قبول کیا اور لمحوں میں فائرنگ ختم ہو گئی۔ وہ اپنے زخمیوں کو لیتے ہوئے وہاں سے ہٹ گئے تھے۔ ان کو بھاگتے دیکھ کر اسد کے ساتھ آئے لڑکے شیر ہو گئے۔ وہ سب آڈیٹوریم کی جانب بھاگے۔ اسد ان میں سب سے آگے تھا۔ میں اس کے کورکے لیے فوراً آگے بڑھ گیا۔ کئی جذباتی لڑکے اوپر چلے گئے اور وہاں سے تین زخمی لڑکوں کو نیچے لے آئے۔
”بھاگ سکتے ہو تو بھاگ جاﺅ، ورنہ میں تمہیں گولی مار دوں گا“۔ اسد نے دانت پیستے ہوئے انتہائی غصے میں کہا۔ مگر وہ لڑکے وہاں سے جانہیں سکتے تھے۔ انہوں نے بے بسی سے اسد کی طرف دیکھا۔ تب میں تیزی سے آگے بڑھ کر بولا۔
”نہتے پر وار کرنا بزدل لوگوں کا کام ہے۔ انہیں ہسپتال تک پہنچانا ہمارا فرض ہے“۔
”فرض....! ان کی گولی ہمارا سینہ چھید جاتی تو وہ کیا تھا“۔ اسد نے نفرت سے کہا۔
”اور اب بھی یقین نہیں کہ انہیں ہم یہاں سے لے کر جائیں اور راستے میں موجود ان کے لوگ ہمیں گولی مار دیں“۔ وہیں کسی نے کہا تو میں نے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔
”میں لے جاتا ہوں انہیں، مجھ پر گولی چلاتے ہیں نا، تو چلائیں“۔ جیسے ہی میں نے کہا تو اسد نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ میں نے ایک لڑکے کو سہارا دے کر اٹھایا۔ تو میری تقلید میں دونوں لڑکوں کو بھی گاڑی میں ڈال دیا گیا۔ تبھی ہم انہیں لے کر کیمپس میں موجود ہسپتال میں جا پہنچے۔ ہم وہاں زیادہ دیر نہیں ٹھہرے انہیں ہسپتال کے عملے کے سپرد کیا اور پلٹ گئے۔ واپس آئے تو ماحول بالکل بدل چکا تھا۔ کاشف کے ساتھی آڈئیویم کی چھت پر تھے۔ اسد میدان کے عین درمیان میں کھڑا تھا اور اندر میوزک بہت زوروں کا بج رہا تھا۔
”کیا اب پروگرام ہو گا؟“ میں نے یونہی پوچھا۔
”ضرور ہو گا، سب لوگ آرہے ہیں اور جب تک یہ پروگرام ختم نہیں ہو جاتا ہم یہیں ہیں“۔ایک جذباتی سے لڑکے نے کہا تو سلیم میرے پیچھے سے منمنایا۔
”سرجی، اب ہمارا یہاں کام نہیں ہے۔ اب ہمیں یہاں سے نکل جانا چاہئے اس قدر خوف کی فضا میں لوگ نہیں آئیں گے۔ تھوڑی دبر بعد انہوں نے تتربتر ہو جانا ہے۔ ہم اپنے ٹھکانے پر پہنچیں“۔
”بات تمہاری معقول ہے۔ تم گاڑی کے پاس چلو،میں آیا“۔ میں نے آہستگی سے اسے سمجھایا اور اسد کے پاس چلا گیا۔ وہ اپنی جیت پر جس قدر خوش تھا، اس سے زیادہ پریشان تھا کہ اب اپنی اس جیت کو سنبھالنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ میں نے اسے تسلی دی اور وہاں سے پلٹ پڑا۔ اس وقت میرے گمان میں یہی تھا کہ لڑکیاں اندر ہال میں ہیں اور ان میں ماہم ضرور ہو گی، اس کا یہاں ہونا مجھے عجیب سا لگ رہا تھا۔ تاہم مجھے رابعہ کی جرا ¿ت کا بھی اندازہ ہو گیا تھا۔ میں یہی سوچتا ہوا اپنی گاڑی کے پاس آگیا۔ اس وقت میرا واپس جانے کو جی نہیں کر رہا تھا، لیکن سلیم ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا۔ میں نہ چاہتے ہوئے بھی گاڑی میں آ کر بیٹھ گیا تو سلیم نے گیئر لگا دیا۔ راستے میں مجھے اچانک تنویر کا خیال آیا۔ ممکن ہے اس ہنگامے کے بعد کیمپس بند ہو جائے یا پھر ہاسٹل پر چھاپہ پڑے تو اس کا کیا ہو گا؟ ابھی ہم کیمپس کے اندر ہی تھے۔ میں نے سلیم کو ہاسٹل کی طرف گاڑی موڑنے کا کہہ دیا۔ کچھ دیر بعد ہم ہاسٹل کے اندر تھے۔ تنویر اکیلا بیٹھا پریشان ہو رہا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی بولا۔
”اچھا کیا تم آگئے ہو یار، پتہ نہیں اب کیا ہو گا“۔
”صرف یہ ہو گا کہ تم میرے ساتھ جارہے ہو سبزہ زار ، جلدی نکلو، جو سامان لے سکتے ہولے لو“۔
”میں بھی یہی سوچ رہا تھا، وہ سامنے بیگ پڑا ہے وہ اٹھا لو اور بس....“تنویر نے کہا اور اٹھ گیا۔ سلیم سامان لے گیا اور میں تنویر کو سہارا دے کر گاڑی تک لے آیا۔ اس کے ساتھ ہی ہمار رخ سبزہ زار کی طرف تھا۔ اس وقت میرے ذہین میں خیال آیا کہ رابعہ کو تو ہاسٹل جانے کے لیے کہوں۔ مگر پھر ارادہ ترک کر دیا۔ وہ خود سمجھ دار تھی۔
l l l
تنویر کمرے میں سکون سے لیٹ گیا تھا۔ ہم کھانا کھا چکے تھے۔ ہم اسد کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے۔ میری توقع کے مطابق وہ پروگرام نہیں ہوا تھا۔ کچھ ہی دیر بعد وہاں بھاری نفری کے ساتھ پولیس آگئی تھی اور سب لوگ تتر بتر ہو گئے تھے۔ جس کا جدھر سینگ سمایا وہ ادھر چلاگیا۔ اسد کب کا کاشف وغیرہ کے ساتھ نکل گیا تھا۔ جبکہ مجھے رابعہ کا فون ہی نہیں مل رہا تھا۔ وہ مسلسل بند تھا ۔ اردگرد سے اطلاعیں آنا شروع ہو گئیں تھیں کہ پولیس ریڈ میں ہاسٹل پر زیادہ توجہ ہے۔ تنویر اس بات پر بہت خوش تھا کہ میں اسے وہاں سے نکال لایا ہوں۔ ہم دونوں ہی اپنے ساتھیوں سے رابطے میں تھے۔ کوئی مل رہا تھا اور کوئی نہیں مل رہا تھا۔ جس کے باعث کافی حد تک پریشانی تھی۔ رات کا پہلا پہر اسی پریشانی میں گزر گیا۔ میں اور تنویر مختلف آپشنز پر بات کرتے رہے۔ سلیم نہ جانے کہاں نکل گیا تھا۔ ایسے میں کال بیل بجی کچھ دیر بعد جندوڈا نے آکر بتایا۔
”سائیں....! کچھ لڑکیاں اندر آنا چاہ رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ آپ سے ملنا ہے“۔
”کچھ لڑکیاں، نام پوچھا ان سے ....؟“ میں نے پوچھا۔
”رابعہ.... اور ....“ اس نے کہنا چاہا تو میں جلدی سے اٹھا اور گیٹ کی جانب بڑھا۔ چند لمحوں میں وہاں تھا۔ رابعہ کے ساتھ چند لڑکیاں کھڑی تھیں ۔ میں نے انہیں دیکھتے ہی کہا۔
”آﺅ اندر آﺅ رابعہ....“
میں یہ کہہ کر اندر کی طرف بڑھ گیا۔ وہ اندر آگئیں۔ گیٹ جندوڈ نے لگا دینا تھا۔ وہ میرے پیچھے پیچھے آنے لگیں۔ ہم ڈرائنگ روم میں آگئے۔ پھر جیسے ہی میں نے ان سب پر نظر ڈالی تاکہ یہ کہوں کہ وہ بیٹھیں، میری نگاہ ماہم پر پڑی جو سب سے آخر میں حیرت سے میری جانب دیکھ رہی تھی۔ میں حیران رہ گیا کہ اس کا رویہ ایسا کیوں ہے؟ وہ رابعہ ہی تھی جس نے اسے انتہائی نفرت سے برا کہا تھا اور اسی رابعہ کے ساتھ وہ یہاں تک آگئی تھی۔ یہ کیا معمہ ہے؟ کیا لڑکیاں سمجھ میں نہیں آتیں یا لڑکیوں کی سمجھ نہیں آتی۔وہ سب صوفوں پر بیٹھ گئیں تھیں۔ ماہم بھی ایک جانب ٹک گئی۔ جندوڈا ایک کونے میں منتظر تھا کہ میں اسے کوئی حکم احکام دوں۔
”رابعہ....! مجھے یقین ہے کہ تم لوگوں نے کھانا نہیں کھایا ہو گیا۔ میں....“ میں نے کہنا چاہا تو ماہم نے میری بات ٹوکتے ہوئے کہا۔
”میں نے ریستوران میں آرڈر کر دیا ہے۔ کسی کو بھی بھیج کر وہاں سے منگوا لیا جائے۔ جندوڈا جاﺅ....“
”جی....“ یہ کہتے ہوئے اس نے میر ی جانب دیکھا۔ میں خاموش رہا تو وہ وہاں سے چل دیا ۔ تو میں نے رابعہ سے پوچھا۔
”تمہارا فون کہاں ہے؟“
”وہیں کہیں گر گیا ہے، اس لیے اسد سے بھی رابطہ نہیں ہو پارہا تھا۔ اب ہوا ہے، بتا رہا تھا کہ وہاں کیمپس میں افراتفری کا عالم ہے، پولیس ریڈ کے باعث سب بھاگ رہے ہیں“۔
”کیا انہوں نے لڑکیوں کے ہاسٹل پر بھی....“ میں نے ایک دم سے پوچھا۔
”نہیں، ادھر تو نہیں، مجھے بھی کوئی اتنا خوف نہیں تھا، لیکن اسد نے احتیاطاً کہا ہے میں ادھر تمہارے پاس چلی آﺅں تو میں آگئی“۔ اس نے پُرسکون لہجے میں بتایا تو میں نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔
”اچھا کیا، اب کھانا آجانے تک آپ سب فریش ہو جاﺅ، جو کمرے اچھے لگتے ہیں ، انہیں ٹھیک کر کے آرام کرو۔صبح باتیں ہوں گی“۔ میں نے اٹھتے ہوئے کہا تو وہ بھی ساری اٹھ گئیں۔ صرف ماہم وہاں پر بیٹھی رہی۔ میں اسے نظر انداز کرتا ہوا اوپری منزل کی طرف چلا گیا۔ مجھے پورا یقین تھا کہ وہ میرے پیچھے ضرور آئے گی ورنہ میں تنویر کو جا کر ساری صورتِ حال بتاتا۔ میں نے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے تنویر کا نمبر ملایا اور فون پر انتہائی اختصار سے رابعہ کے آنے کے بارے میں بتایا۔ تب تک میں اوپری چھت تک جا پہنچا۔دور دور تک شہر روشن تھا۔ اندھیرے میں جگمگاتے ہوئے برقی قمقمے بہت اچھے لگ رہے تھے۔ ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی جس میں ہلکی ہلکی نمی تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ میں نے ماہم کے ساتھ کیسا رویہ رکھنا تھا۔ میں نے چھت پر آ کر گہری سانس لی اور دور اندھیروں میں دیکھنے لگا۔ تبھی مجھے اپنے عقب میں قدموں کی چاپ سنائی دی۔ میں نے مڑ کر دیکھا۔ مجھ سے ذرا فاصلے پر ماہم دونوں ہاتھ پشت پر باندھے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں غصہ ملی بے بسی تھی۔ جیسے وہ بہت زیادہ شکوے کر لینا چاہتی ہو۔
”کیا آپ مجھے نظر انداز کر سکتے ہو؟“ وہ آہستگی سے بولی۔
”نہیں ماہم میں تمہیں قطعاً نظر انداز نہیں کر سکتا۔ تمہارا اگر کوئی منفی رویہ سامنے آئے گا تو مجھے زیادہ دکھ ہو گا“۔
میں نے اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہا تو وہ بڑے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہتی چلی گئی۔
”ابان....! مجھے بتاﺅ میرا ایسا کون سا منفی رویہ ہے۔ رابعہ نے جو کچھ بھی کہا، وہ غلط نہیں، بالکل سچ ہے، لیکن ذرا غور کرو رابعہ نے جو کچھ بھی بتایا ہے وہ ساری کی ساری فرخ چوہدری کی سوچ ہے۔ دشمن سے خیر کی توقع رکھنا بڑی حماقت ہے۔ میں اپنی صفائی میں اس لیے کچھ نہیں کہوں گی کہ میں نے ایسا کچھ نہیں سوچا“۔
”بقول تمہارے اگر یہ سب سوچ ہے تو پھر سب دوستوں کامتنفر ہو جانا درست ہے ۔ ان کا تم پر بھروسہ نہ کرنا کچھ غلط تو نہیں ہے“۔ میں نے آہستگی سے اپنی سوچ بتائی۔
”مجھے کسی سے کوئی غرض نہیں، مجھے صرف آپ کی پروا ہے۔ مجھے آپ کا یقین چاہئے۔ باقی سب وقت ثابت کر دے گا کہ اصل حقیقت کیا ہے؟“ اس نے تیزی سے کہا۔
”تو پھر تمہیں کم از کم مجھے تو بتانا چاہئے کہ اصل حقیقت کیا ہے؟“ میں نے تشویش زدہ لہجے میں پوچھا۔
”اصل حقیقت وہی سیاست ہے۔ رابعہ نے غلط نہیں کہا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا میں اپنے پاپا سے متفق ہوں یا نہیں۔ مجھے ان کی سیاست سے کوئی غرض ہے یا نہیں۔ وہ بندہ جو معاہدہ کرتے ہی اس کی پاسداری نہ کرے وہ کہاں قابل اعتماد ہوتا ہے۔ ابان....! میں نے اب تک اپنی جنگ ہی لڑی ہے۔ اگر تم نہ ہوتے تو شاید میں یہ جنگ نہ جیت سکتی۔ اب پاپا لوگ اس پر اپنی سیاسی دکان چمکانا چاہتے ہیں تو مجھے ان سے کوئی غرض نہیں“۔
”تم ایسا کر کے اپنے پاپا سے بغاوت نہیں کر رہی ہو؟“ میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے وہاں دھری کرسی پر بیٹھ گیا۔ میری تقلید میں ماہم بھی میرے سامنے بیٹھتے ہوئے بولی۔
”ایسا کر کے میں نے کون سا نئی بغاوت کی ہے، آپ شاید نہیں جانتے، صبح میری بات پاپا سے ہوئی تھی اور میں نے انہیں فرخ کے پیغام بارے بتا کر انہیں اپنی رائے بتا دی ہے کہ مجھے آپ لوگوں کی سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں فرخ چوہدری جب بھی میرے سامنے آیا، میں اسے نہیں چھوڑوں گی۔ میرے خیال میں ان کا یہ معاہدہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہے گا“۔
”دیکھو ماہم ....! جہاں تک میری ذات ہے، مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں ہے، لیکن اگر تمہاری وجہ سے گروپ کو نقصان ہوتا ہے تو وہ برداشت نہیں کیا جاسکتا“۔ میں نے اس کی طرف دیکھ کر آہستگی سے کہا۔
”لیکن یہ بھی تو دیکھو، الزام کس نے لگایا، میرے دشمن نے.... گروپ کو یہ بھی دیکھنا چاہئے۔ شک کی دراڑ تو پڑ گئی ہے۔ جنہیں ختم کرنے میں ابھی وقت لگے گا، لیکن میرا آپ سے تعلق ختم ہو، میں یہ بھی تو برداشت نہیں کر سکتی“۔ وہ مجھے سمجھانے والے انداز میں بولی۔
”ہمارا تعلق رہے گا ماہم؟ میں نے جب تمہیں دوست کہہ دیا تو بس کہہ دیا، وہ لوگ گھٹیا اور رذیل ہوتے ہیں جو دوست بھی کہیں اور منافقت بھی کریں“۔ میں نے کہا تو اس نے ایک دم سے دیکھتے ہوئے خوشی سے لبریز لہجے میں کہا۔
”میںیہی چاہتی ہوں ابان، اب چاہے جیسا بھی امتحان ہو، میں اس سے سرخرو ہوں گی۔ میرے خیال میں اب ہمیں نیچے جانا چاہئے“۔
”اوکے، تم جاﺅ، میں آتا ہوں“۔ میں نے ہلکے سے انداز میں کہا تو وہ اٹھ کر چل دی اور میں سوچنے لگا، ماہم تو بالکل ایک معمہ لگ رہی ہے۔ کیا یہ حل ہو بھی سکے گی یا میں یونہی اس کے ساتھ الجھتا رہوں گا۔ نہ جانے مجھے یہ کیوں گمان ہونے لگا تھا کہ میری منزل اب بہت قریب ہے، کیونکہ جس قدر میں اس میں الجھ گیا ہوں، وہ بھی تو اتنا الجھ گئی ہے مجھ میں۔ کیا واقعی وہ میری ذات میں الجھی ہے؟ اگر یہ سچ ہے تو مجھے دیر نہیں کرنا چاہئے تھی۔ اب صرف اتنا ہی چاہئے تھا کہ وہ کھل کر اپنا اظہار کر دے۔ تبھی فوراً ہی میرے اندر سے یہ آواز اٹھی، ایسا تو وہ کئی بار کر چکی ہے۔ تمہیں ہی یقین نہیں آرہا ہے ۔ کیا کسی انہونی ہو جانے کے انتظارمیں ہو یا تم بھی کوئی قدم بڑھاﺅ گے۔ یہ آواز میرے خاصی اہم تھی۔ میں نے وہیں بیٹھے فیصلہ کر لیا۔ اب جو ہوتا ہے وہ ہو۔ مجھے اہم قدم اٹھانا چاہئے۔ میں چھت پر بیٹھا اپنے آپ سے الجھتا رہا ، پھر فیصلہ کرتے ہی اٹھ کر نیچے ڈرائنگ روم میں آگیا۔ جہاں وہ لڑکیاں کھانا کھا رہی تھیں اور ان سے ذرا فاصلے پر تنویر بیٹھا ٹی وی میں محو تھا۔ مجھے دیکھتے ہی وہ میری طرف متوجہ ہو گیا۔
”کہاں تھے تم....؟“ اس نے پوچھاتو میں نے کچھ جھوٹ اور کچھ سچ بتاتے ہوئے کہا۔
”مجھے کچھ ضرور فون کرنا تھے۔ اس لیے چھت پر تھا“۔
”یار میں نے سنا ہے چند لڑکے شدید زخمی ہیں۔ ان میں دو اپنے ہیں اور باقی ان کے ایک کی تو حالت خاصی نازک ہے اس وقت“۔ تنویر نے مجھے معلومات دیں تو میں نے چند لمحے خاموشی کے بعد کہا۔
”اب کیا کیا جائے، یہ تو ہونا ہی تھا“۔
”یار یہ کیا طوفانِ بدتمیزی ہے۔ ہم پڑھنے کے لیے آتے ہیں اور یہاں میدانِ جنگ بنا ہوا ہے۔ ڈوریاں ہلانے والے نہ جانے کہاں بیٹھے ہیں۔ فائدہ پتہ نہیں کس کا ہو رہا ہے اور ہم اپنے معمولی سے فائدے کے لیے کٹھ پتلیاں بنے ہوئے ہیں“۔ وہ اکتائے ہوئے لہجے میں بولا۔
”ایک دوسرے کا احترام ہی محبت کی فضا کوجنم دیتا ہے۔ میں ایک بات سمجھتا ہوں تنویر، یہ جو مذہبی تنظیم کے لوگ ہیں ، پہ اپنے کردار سے دوسروں کو متاثر کیوں نہیں کرتے۔ جبر کی بجائے وہ محبت بھر ا سلوک کریں اپنے پیغام کو پھیلا کر دوسروں کے دل جتیں، یہ کہاں کا انصاف ہے کہ وہ جبر سے، دھونس اور غنڈہ گردی سے اپنی بات منوانے کی کوشش کریں۔ کتنے غنڈے ہاسٹلوں میں پرورش پاتے ہیں اور ان کی سرپرستی کون کرتا ہے“۔ میں نے اپنی رائے دی۔ تو وہ بولا۔
”یہ بڑا آسان سانسخہ ہے، محبت ، باہمی احترام اور امن، لیکن ہو کیا رہا ہے، اپنے گروپ کا کوئی بندہ چاہے غلط ہی کیوں نہ کرے وہ درست ہے اور دوسرے کا تو غلطی ہی ہے نہ تو جہاں جہاں بے انصافی عدم مساوات اور اقرباپروری آئے گی، وہاں وہاں بغاوت بھرا ردِ عمل ضرور سامنے آئے گا“۔
”مذہب یا دین کے نام پر مفادپرستی انتہائی کریہہ عمل ہے ۔ اگر چہ میں اﷲ کی رحمت سے بڑا پر امید ہوں مگر ایسے لوگ سب سے پہلے دوزخ میں جائیں گے، یہ میرا گمان ہے“۔
”کیا فتویٰ لگا رہے ہو ابان، بس کرو، کسی نے سن لیا تو ، تیرا کام ہو جائے گا“۔ رابعہ مسکراتے ہوئے آ کر بیٹھ گئی۔
”غلط تو غلط ہی ہے رابعہ، میں کوئی مذہبی سکالر نہیں، میں بھی تو اسی معاشرے کا فرد ہوں۔ میں نے جو سنا اور دیکھا ہے ، میں تو اسی بنیاد پر بات کر رہا ہوں۔ تمہارا اور میرا یوں ایک چھت تلے بیٹھنا غلط ہے۔ اگر میں اس عمل کو درست کہتا تو میں خود غلط ہوں۔ مجھے کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ میں فتویٰ لگا دوں۔ میں تو اپنی خواہش بتا رہا ہوں کہ معاشرے میں امن ہو، جو بھی اختلاف ہیں، انہیں حل کرنے کے لیے سکالرزیر چھوڑیں اور خود ایک اُمت بن جائیں، اسی میں ہماری بھلائی ہے کیونکہ میرے جیسے گناگار بھی اچھے کردار والوں کو دیکھ کر خود کو ٹھیک کرلیں “۔ میں نے کہا تو وہ بولی۔
”ہونا تو ایسے ہی چاہئے، لیکن کیا یہ قصور ہمارا ہے۔ ہم نے جس ماحول میں آنکھ کھولی، ہم نے تو ویسا ہی بننا ہے۔ اس کیمپس میں آنا ہماری مجبوری ہے۔ کیا کریں....“
”خیر....! سارا الزام مذہبی تنظیم والوں کو بھی نہیں دیا جا سکتا۔ اگر ان کا خوف نہ ہو تو ہمارا وہ معاشرہ جس ڈگر پر چل نکلا ہے۔ یہ حد سے زیادہ بے باک ہو جائے“۔ میں نے کافی حد تک سوچتے ہوئے کہا اور پھر ہمارے درمیان خاموشی چھا گئی۔ میں سوچنے لگا۔ شاید ہم اپنے خیالات میںچوں چوں کا مربہ ہوں گئے ہیں۔ کوئی واضح سوچ ہمیں کسی خاص منزل کی نشاندہی نہیں کررہی۔
میں نے محسوس کر لیا تھا کہ ماہم صرف ہماری باتیں سن رہی ہے۔ اس نے کہیں بھی دخل اندازی نہیں کی تھی۔ ایسا شاید اس لیے تھا کہ وہ سوچ رہی تھی۔ اس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ ذہنی طور پر یہاں نہیں ہے، کہیں اور ہی پہنچی ہوئی ہے۔ لڑکیاں کھانا کھا چکیں تو ایک کے بعد دوسری سبھی اپنے لیے مخصوص کمرے میں چلی گئیں۔ ڈرائنگ روم میں ہم فقط چاروں تھے۔ میں ، رابعہ، ماہم اور تنویر۔ ہمارے درمیان خاموشی تھی۔ کچھ دیر بعد میں نے رابعہ ہی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
”رابعہ.... ! تم نے تو ماہم پر الزمات کی بھرمارکر دی تھی۔ آج اسے اپنے ساتھ لیے پھرتی ہو، پوچھ سکتا ہوں کیوں؟“
”میں نے اسے نہیں بلایا، میں جب اپنی فرینڈز کے ساتھ آڈیٹوریم کے باہر پہنچی تو یہ وہاں پر تھی۔ اسے میں نے اپنے ساتھ آنے کا بالکل نہیں کہا۔ یہ خود آئی ہے۔ اب تمہارے گھر میں آ کر یہ کھانے کا آرڈر دے تو مجھے اس سے کوئی غرص نہیں۔ تمہارے گھر میں کوئی بھی کھانا دے، وہ ہے تو تمہاری طرف سے“۔ وہ ایک ہی سانس میں کہہ گئی تو ماہم نے انتہائی تحمل اور سکون سے کہا۔
”تم لوگوں کا غصہ درست ہے لیکن میں نے بھی تو کسی کو شکوہ نہیں دیا۔ تم لوگ مجھ پر بھروسہ کرو یا نہیں کرو۔ یہ آپ لوگوں کی مرضی، مگر میری طرف سے تم لوگوں کو کبھی نقصان نہیں پہنچے گا۔ میں یہ بھی نہیں کہوں گی کہ مجھے ایک موقعہ مزید دیا جائے کیونکہ میں نے کچھ نہیں کیا۔ہاں، اب مجھے تنہا فرخ سے مقابلہ کرنا ہو گا۔ وہ اس لیے کہ ان باپ بیٹے نے بہت اوچھا وار کیا ہے“۔
”ماہم اس میں تمہارے پاپا بھی تو شامل ہیں، انہیں کیا ضروت تھی ان لوگوں سے ملنے کی، سیاست کی بھینٹ اگر تم چڑھ گئی ہو تو اس میں ہماراتو کوئی قصور نہیں“۔ رابعہ نے تیزی سے کہا تو تنویر نے گلا صاف کرتے ہوئے کھنکار کے کہا۔
”وقت ہی اس کا حل ہے رابعہ، ماہم کو ہم نہیں چھوڑ سکتے۔ وقت خود بخود بتادے گا کہ کون غلط ہے اور کون درست ۔ ابان ، کیا کہتے ہو؟“
”میرا بھی یہی خیال ہے، ایک دشمن کے کہنے پر ہم اپنے ساتھی کو چھوڑ دیں۔ شک کا زہر بہت برا ہوتا ہے رابعہ، اور میں اسد کو سمجھاﺅں گا، اگر ماہم نے فرخ کو نیچا دکھانے کے لیے ہمارا ساتھ دیا ہے تو کیمپس پر گرفت بھی دیکھو کتنی مضبوط ہوئی ہے۔ کیا آج کا واقعہ اس پر ثبوت نہیں ہے؟“ میں نے اپنے طور پر دلیل دیتے ہوئے کہا تو رابعہ نے ایک طرح سے مسکراتے ہوئے بھرپور نگاہوں سے مجھے دیکھا اور پھر اٹھتے ہوئے بولی۔
”ہم خواہ مخواہ ایک فضول بحث میں الجھ رہے ہیں۔ خیر....! میں تو چلی ہوں سونے۔ صبح ملاقات ہو گی۔ شب بخیر“۔
”شب بخیر....!“تنویر نے کہا اور اٹھ گیا۔ ڈرائنگ روم میں ہم تنہا رہ گئے۔ ہم دونوں خاموش تھے اور وقت لمحہ بہ لمحہ گزرتا چلا جارہا تھا۔ پھر ماہم ایک دم سے اٹھی اور باہر نکلتی چلی گئی۔ اس نے کوئی الوداعی لفظ تک نہیں کہا تھا۔ میں اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا۔ وہ نگاہوں سے اوجھل ہو گئی۔ پھر گاڑی سٹارٹ ہونے کی آواز سنی اور پھر خاموشی چھا گئی۔ میں کچھ دیر ڈرائنگ روم میں بیٹھا رہا۔ پھر اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ مجھے معلوم تھا کہ میں اپنے بیڈ پر جاکر سو نہیںسکوں گا، مجھے اسد سے رابطہ کرنا تھا اور پھر اس واقعہ کو اپنی نگاہوں میں رکھنا تھا۔
l l l

No comments:

Post a Comment

Posts

مصنفسے رابطہ

فیس بک https://www.facebook.com/amjadhsp




Comments

  • olisabachman"JTG Casino & Racetrack - Jackson, MS Jobs | JT..."
  • DOCTOR MARTEN"گردہ؟ تم ہواپنے گردے کو پیسے کے عوض بیچنے کا موقع ..."
  • DOCTOR MARTEN"کیا آپ کڈنی خریدنا چاہتے ہیں یا آپ اپنا بیچنا چاہت..."
  • DOCTOR MARTEN"کیا آپ کڈنی خریدنا چاہتے ہیں یا آپ اپنا بیچنا چاہت..."

رابطہ کیجیے

Name

Email *

Message *