Wednesday 15 November 2017

حصار ۔۔امجد جاوید۔۔ قسط نمبر 13

حصار
امجد جاوید 
قسط نمبر 13
شہر پر اندھیرا پھیل رہا تھا ۔ گھر روشن ہو نے لگے تھے ۔مغربی افق نارنجی ہو رہا تھا ۔ ایسے میں بابا کرامت کے گھر کے سامنے رکشہ رکا اور اس میں سے فرزانہ باہر آ گئی ۔ وہ ایک کالی چادر میں لپٹی ہوئی تھی ۔اس کا آ دھا چہرہ چھپا ہوا تھا ۔باقی آ دھا گلابی چہرہ اندھیرے میں بھی دکھائی دے رہا تھا۔ وہ گھر کے اند چلی گئی ۔ اس وقت برآمدے میں کوئی نہیں تھا ۔آگے بڑے سارے صحن میں چند نشئی قسم کے لوگ دائرے میںبیٹھے ہوئے تھے ۔ ان کے درمیان آ گ جل رہی تھی ۔ وہ اپنی مستی میں بیٹھے ہوئے باتیں کرتے چلے جا رہے تھے ۔ وہ برآمدے سے آ گئے بڑھی ہی تھی کہ ایک نوجوان لڑکا ا س کی جانب لپکا ۔ اس نے قریب آ کر پوچھا
” کون ہو آ پ ؟ کدھر جا رہی ہو ؟“
” مجھے بابا جی سے ملنا ہے ۔“ اس نے دھیمے سے کہا
” وہ تو ابھی آ رام کر رہے ہیں ، آ پ ان سے صبح ملنا ۔“ اس نوجوان نے کہا ، اتنے میں اندر کمرے سے وہی خدمت گار خاتون باہر آ کر گھمبیر لہجے میں بولی 
” آ نے دے آ نے دے ۔“
اس نوجوان نے اسے اندر جانے کا اشارہ کیا ۔ وہ خاتون اسے لے کر ایک سجے ہوئے کمرے میں لے گئی ۔جہاں ایک صوفے پر بابا کرامت نیم دراز تھا ۔
” ارے واہ ، تم آ بھی گئی ہو ۔ دیر نہیں کر دی ذرا ۔“ بابا نے خوش ہوتے ہوئے کہا تو وہ بولی 
” بس گھر سے نکلتے ہوئے دیر ہو گئی ۔“
” چلو کوئی بات نہیں ہے ۔ جاﺅ ، جلدی سے عمل کے لئے تیار ہو جاﺅ۔“ اس نے شاہانہ انداز میں کہا تو فرزانہ بولی 
” جی میں ابھی چلی جاتی ہوں ، ایک بات کرنا تھی آ پ سے ؟“
” بولو ، بولو، کیا بات ہے ؟“ اس نے ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے کہا
”میری شادی اسلم سے کب ہو گی ، ان کی طرف سے کوئی نہیں آ یا ، آپ نے جو راکھ دی تھی ، وہ تو کب کی ختم بھی ہو چکی ۔“اس نے رو دینے والے انداز میں کہا
” ایسا ہوا، ایسا ہو نہیں سکتا ۔“ اس نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا
” اس کی طرف سے اب تک کوئی نہیں آ یا ۔“ اس نے دوبارہ دہرا دیا
” ہونے کو تو اسی ہفتے میں تمہاری منگنی ہو جائے ، لیکن تمہیں جلدی کیا ہے ؟ ابھی کچھ عرصہ عیش کر لو۔“ بابا کرامت نے پوری طرح خباثت سے کہا
” بابا، جب ذہن میں ہی سکون نہ ہو تو کاہے کی عیش ۔“ اس نے کہا
” ہاں ، بات تو تمہاری بھی ٹھیک ہے ، بس آ ج رات کے عمل میں یہ کام بھی ہو ہی جائے گا ؟“ اس نے پھر شاہانہ انداز میں کہا ۔ لگتا تھا ، اس رات وہ بڑے خوشگوار موڈ میں تھا یا پھر فرزانہ کو دیکھ کر اس کا موڈ بن گیا تھا ۔
اس رات بابا کرامت شاہ نے سیاہ کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ وہ ایک ہال نما لمبے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا ۔اس کے سامنے اُپلوں ڈھیر سامنے پڑا ہوا تھا ، جس میں سے گاڑھا دھواں نکل رہا تھا ۔اس نے اپنے اردگرد فرش پر سیاہ رنگ کا ایک دائرہ بنایا ہوا تھا ۔دھواں روشن دانوں سے باہر نکل رہا تھا ۔ وہ آ لتی پالتی مارے بیٹھا تھا ۔ اس کی آ نکھیں بند تھیں ۔وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتا چلا جا رہا تھا ۔کچھ دیر بعد اس نے اونچی اونچی آ واز میں یوں بے سروپا آ وازیں نکالنا شروع کر دیں جیسے کسی کو ذبح کیا جا رہا ہو ۔ایسے میں مدہوش سی فرزانہ کمرے میں دھکیل دی گئی ۔وہ لڑکھڑاتی ہوئی اس کے پاس چلی آ ئی ۔اس کے بدن پر صرف ایک سیاہ چادر تھی ، جس نے اس کے بدن کو ڈھانپا ہوا تھا ۔اس کے بال کھلے ہوئے تھے اور وہ وحشت ناک انداز میں دیکھتی ہوئی دائرے میں آ گئی ۔ بابے کرامت نے اسے تھام لیا اور وہ جھولتی ہوئی نیچے بیٹھتی چلی گئی ۔ وہ دونوں آ منے سامنے بیٹھے ہوئے تھے ۔بابا زور زور سے منتر پڑھنے لگا ۔ تبھی اس نے اپنا ایک ہاتھ بلند کیا، دوسرے ہاتھ میں چھری اٹھا کر لہرانے لگا۔ فرزانہ مدہوش سی اس کے سامنے بیٹھی ایک ٹک اسے دیکھے چلی جا رہی تھی ۔بابا کرامت دونوں ہاتھ آ منے سامنے کرتے ہوئے لہراتا رہا ، ساتھ میں زور ور سے منتر پڑھتا رہا ۔ یہاں تک کہ اس نے اپنے ہتھیلی پر چھری پھیر دی ۔ سرخ سرخ لہو بہنے لگا تو اس نے اپنی ہتھیلی فرزانہ پت چھڑک دی ۔لہو کے قطرے جیسے ہی اس پر گرے وہ یوں چیخ اٹھی جیسے کسی نے اس پر انگارے پھینک دئیے ہوں ۔دونوں چیخ رہے تھے ۔ فرزانہ تڑپ رہی تھی۔تبھی بابے کرامت نے منتر پڑھنا بند کر دیا۔ فرزانہ پر سکون ہونے لگی ۔ بابے کرامت نے اسے پکڑ لیا ۔ اس کے سر کے بالوںمیں ہاتھ پھیرنے لگا ۔ فرزانہ جب تڑپ رہی تھی ، تب اس کی سیاہ چادر سرک گئی تھی ۔ دھویں کے بادل گہرے ہونے لگے اور اس ہال نما کمرے میں خباثت اپنے عروج کو پہنچ گئی ۔
٭....٭....٭
طلعت بیگم صبح صبح لان میں ٹہل رہی تھی ۔ سورج کی روشنی ابھی پوری طرح نہیں پھیلی تھی ۔وہ لان کے ایک سرے سے چلتی ہوئی دوسرے سرے تک پہنچ جاتی ، پھر پلٹ کر پہلے سرے تک آ جاتی ۔ موسم بہت ہی خوشگوار ہو رہا تھا ۔ایسے میں اسے مراد علی آ تا ہوا دکھا ئی دیا۔ اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی تھی ۔وہ دھیمے قدموں سے چلتا ہوا اس کے پاس آ گیا ۔ تبھی بیگم طلعت نے خوش گوار لہجے میں کہا 
” مراد ، آ ج موسم کتنا اچھا ہو رہا ہے نا۔“
” ہاں ، اچھا ہے ۔ “ یہ کہتے ہوئے اس نے ایک طویل سانس لی ، پھر بولا،” میں تم سے رات بات نہیں کر سکا ۔“
” کون سی بات ؟“ اس نے عام سے لہجے میں پوچھا 
” وہ ثانیہ کے بارے میں جو تم نے مجھے کہا تھا ۔“ اس نے یاد دلاتے ہوئے کہاتو بیگم طلعت نے سنجیدگی سے پوچھا
” ہاں ، پھر کیا سوچا آ پ نے ؟“
” میں نے تو جو سوچنا تھا ، وہ سوچ لیا ہے ، لیکن پہلی ایک بات بتاﺅ ، کیا تم نے ثانیہ سے اچھی طرح بات کر لی ہے ، وہ اس رشتے پر راضی ہے ؟“
 ” میرے لئے زیادہ اہم یہ ہے کہ آپ کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔یہ بات آپ بھی جانتے ہیں ۔ آپ دونوں باپ بیٹی نے فیصلہ کیا اور صرف مجھے بتایا۔میں نے آپ دونوں کے فیصلے پر کوئی وعتراض نہیں کیا۔ اب بھی نہیں کروں گی ۔ میرے خیال میں یہ بات خود ثانیہ سے کرنی چاہئے ۔“ بیگم طلعت نے تحمل سے سمجھاتے ہوئے کہا تووہ دھیمے سے بولا
” نہیں تب صورت حال کچھ اور تھی ، اب معاملہ دوسرا ہے ۔“   
”اس سے تو میںبات کر لوں گی ، مجھے آپ بتائیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں ؟“ اس نے پوچھا
” یہی کہ اگر ثانیہ چاہتی ہے کہ اس کی شادی شعیب سے ہو جائے تو اب ہم کیا کہہ سکتے ہیں ۔“ مراد علی نے تشویش زدہ لہجے میں کہا
” کیا آ پ اس رشتے پر خوش نہیں ہیں ؟“ اس نے پوچھا
” سچی بات تو یہ ہے طلعت ،، میرا دل نہیں مانتا، وہ شخص جسے میں نے کبھی پسند نہیں کیا، وہ میرا داماد بن جائے ۔ جنہیں میں اپنے گھر میں دیکھنا پسند نہیں کرتا ، وہ میرے سمدھی بن جائیں ۔“ اس نے صاف لفظوں میں کہا

جاری ہے

No comments:

Post a Comment

Posts

مصنفسے رابطہ

فیس بک https://www.facebook.com/amjadhsp




Comments

رابطہ کیجیے

Name

Email *

Message *