کیمپس
امجد جاوید
قسط نمبر7
مجھے سبزہ زار پہنچے ہوئے اتنا زیادہ وقت نہیں ہوا تھا۔ میرا ذہن پوری طرح اسد کی طرف تھا۔ وہ ہر دس پندرہ منٹ کے بعد مجھے اپنی خیریت کی اطلاع دے رہا تھا۔ میں اگرچہ مطمئن تھا لیکن میری تسلی نہیں ہو رہی تھی۔ یوں حبس تھا جیسے طوفان کے آنے سے پہلے خاموش حبس ہوتا ہے۔ بنیادی طورپر میری بے چینی کی یہی وجہ تھی۔ دوسری طرف لاشعوری طور پر میں ماہم کے فون کا منتظر تھا۔اس نے کچھ دیر بعد مجھے فون کرنے کے لیے کہا تھا، جو اس نے نہیں کیا تھا۔ میں ڈرائنگ روم میں صوفے پر اپنے پاﺅں پھیلا کر بیٹھا ہوا تھا۔ یونہی بیٹھے بیٹھے دن غروب ہو گیا۔ اسد کی طرف سے خیریت کی اطلاع تھی جبکہ ماہم نے فون نہیں کیا۔ میں اسے خود فون نہیں کرنا چاہتا تھا۔ میں اس کے بارے میں سوچتا رہا۔وہ پرت در پرت میرے سامنے کھل رہی تھی۔ کاشف اور عدنان سے ملانے کے لیے اس نے کتنا خوبصورت طریقہ اپنایا تھا، میں یہی سمجھ رہا تھا کہ وہ مجھے اپنے طور پر لنچ پر بلا رہی ہے۔ ان سے ملاقات ہو جانے سے ایک لمحہ پیشتر بھی مجھے احساس نہیں ہونے دیا۔ اس واقعہ سے میں یہی اندازہ لگا سکتا تھا کہ ماہم جو بظاہردکھائی دے رہی ہے ، وہ نہیں ہے، وہ بہت کچھ ہو سکتی ہے۔ کیمپس پر قابض تنظیم کے مخالفین سے اس کا رابطہ یونہی معمولی بات نہیں ہو سکتی تھی۔ میں اس کے خیالوں میں گم تھا کہ سلیم آگیا۔ وہ آتے ہی سلام کر کے سامنے والے صرف پر بیٹھ گیا۔ تب میں نے پوچھا۔
”سناﺅ....! کہاں رہے سارا دن؟“
”بس سر....! اِدھر اُدھر گھومتا رہا“۔ آوارہ گردی ہوتی رہی ہے۔”اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”یار کوئی ہمیں بھی آوارہ گردی کروا دیا کرو اور ادھر گھر میں تو بور ہو جاتا ہوں“۔ میں نے یونہی مذاق میں کہا تو وہ چہکتے ہوئے بولا۔
”کیا بات کرتے ہیں سرجی، سارا دن تو آپ کا رنگینیوں میں گزر جاتا ہے۔ آپ کو کہاں بوریت ہوتی ہو گی“۔
”کیسی رنگینی یار ، کیا سوچ کر آیا تھا، آتے ہی پھڈوں میں پھنس کر رہ گیا ہوں۔ اس سے جان چھوٹے گی تو کوئی رنگینی دکھائی دے گی“۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”اچھا ہے نا سر، ایسے پھڈے مردوں کے لیے ہی ہوتے ہیں۔ یہ تو کوئی مسئلہ نہیں ہے، مسئلہ تو یہ ہے کہ آ پ خود ہی اگر رنگینی دیکھنا پسند نہیں کرتے وہ نظر کیسے آئے؟“ وہ اس بار قہقہہ لگاتے ہوئے بولا تھا۔
”یار، میں نے کون سا آنکھیں بند کی ہوئی ہوتی ہیں“۔ میں نے خوشگوار حیرت سے کہا۔
”بات دراصل یہ نہیں ہے، اصل میں برطانیہ کا ماحول اور یہاں کے ماحول میں آپ ابھی تک فرق محسوس نہیں کر رہے ہیں۔ اسی فرق کو جیسے ہی آپ نے محسوس کیا، آپ کو رنگینی دکھائی دینا شروع ہو جائے گی“۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
”یہ عجیب منطق ہے، ایسا نہیں ہے، میں چاہے لاکھ برطانیہ میں رہا ہوں لیکن میرا اندر اب بھی وہی مشرقی ہے۔ شرماتی، لجاتی، نازونخرہ دکھاتی، دل میں کچھ اور زبان پر کچھ اور ، اشاروں کنایوں سے سمجھاتی لڑکی میری آئیڈیل ہے، ایک ہی مرد پر اپنا سب کچھ وار دینے والی ایسی لڑکی میری کمزوری ہے“۔ میں نے اسے مسکراتے ہوئے بتایا۔
”تو سرجی، پھر ایسی لڑکی تو شاید ہی آپ کوملے۔ اب وہ دور گزر گیا۔ مغربی ماحول کو اپناتے ہوئے نئی نسل اپنی اقدار بھی بھول گئی ہے۔ سو نہ وہ ادھر کے رہے ہیں اور نہ ادھر کے.... میں اکثر سوچا کرتا ہوں ہم خود پر جتنی بھی مغربیت طاری کرلیں، کیا ہم اندر سے مغربی ہو سکتے ہیں؟ کیا ہم میں سے مشرقیت نکل سکتی ہے۔ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو کیوں خود کوچوں چوں کا مربہ بنا رہے ہیں“۔ وہ بڑی حد تک جذباتی ہو گیا تھا۔
”بات تو تمہاری ٹھیک ہے۔ اصل میں یہ کیمسٹری وراثتی بھی ہے، کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ہر انسان کی اپنی ایک کیمسٹری ہے۔ وہ اس کے مطابق جذبات واحساسات رکھتا ہے، اس کے مطابق اپنا رویہ اور برتاﺅ رکھتا ہے۔ ہر روح کی اپنی کیمسٹری ہے، رنگ ہے اور خوشبو....“ میں یہ کہتے کہتے اچانک خاموش ہو گیا۔ میرے سامنے سلیم تھا نہ جانے وہ میری بات کو سمجھ بھی رہا تھا یا نہیں۔ پھر لمحہ بھر توقف کے بعد بولا۔ ”خیر....! ہم تو رنگینی کی بات کر رہے تھے“۔
”لیکن میں آپ کی اس کیمسٹری والی بات میں اٹک کر رہ گیا ہوں۔ اس کی ذرا تشریح کر دیں....“ اس نے کہا تو میں چونک گیا۔ میں نے جو اس کے بارے میں انداز لگایا تھا وہ درست نہیں تھا۔ وہ مجھے اس معاملے میں بھی بہت سمجھ دار لگا تھا۔ سو میں نے ہنستے ہوئے کہا۔
”چھوڑ، فی الحال تو رنگینی کی بات کرو، کیمسٹری پر کسی اور وقت میں بات کرلیں گے....“
”جیسے آپ کی مرضی اور باقی رہی رنگینی کی بات تو وہ آپ مجھ سے بہتر سمجھتے ہیں۔ رنگوں میں بسے ہوئے بندے کو باہر بے رنگی ہی دکھائی دے گی نا....“ یہ کہتے ہوئے وہ اٹھ گیا۔ پھر چند قدم کے بعد بولا۔ ”چائے پئیں گے آپ؟“
”لے آﺅ، دونوں مل کر پیتے ہیں، جندوڈا دو بار پوچھ گیا ہے، لیکن دل نہیں مانا“۔ میں نے اسے بتایا۔
”میں خود اپنے ہاتھوں بنا کر لاتا ہوں“۔ یہ کہہ کر وہ تیز قدموں سے اندر چلا گیا اور میں اس کی بات کو سوچنے لگا کہ وہ رنگوں اور بے رنگی کے بارے میں کیا بات کر گیا۔ ہے میں اسی خیال میں گم تھا کہ میرا سیل فون بج اٹھا۔ دوسری جانب ماہم تھی۔
”سور ی ابان....! میں فوراً فون نہیں کر سکی۔ معاملات ہی کچھ ایسے آن پڑے تھے“۔
”کوئی بات نہیں، بندہ مصروف ہو ہی جاتا ہے، اس میں سوری والی کیا بات ہوئی“۔ میں نے کہا تو وہ تیزی سے بولی۔
”اونہیں، دراصل میں نے خود فون کرنے کے لیے کہا تھا، خیر....! کل کیمپس سے تو آف ہے نا، آپ کیا کر رہے ہیں کل“۔
”کچھ نہیں، سو کر ہی دن گزاروں گا“۔ میں نے یونہی عام سے انداز میں کہا۔
”نہیں آپ سوئیں نہیں کل، آپ کا دن میں ضائع کروں گی۔ آپ رات کو جی بھر کے سولیں“۔ اس نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔
”جیسے حکم ....!“ میں نے خوشگوار لہجے میں کہا۔
”ٹھیک ہے، میں صبح بات کروں گی“۔ اس نے کہا اور پھر چند باتوں کے بعد فون بند کر دیا۔ میں پُرسکون ہو گیا اور اپنے بستر میں چلا گیا۔ اب مجھے صرف اسد کی فکر تھی۔ اس کی طرف سے بھی خیریت کے پیغام سیل فون پر آرہے تھے۔ وہ کیا کچھ کر رہا ہے، یہ بھی ساتھ ساتھ وہ مجھے مطلع کر رہا تھا۔ میں نے ڈنر لیا، جندوڈا اور سلیم سے باتیں کیں ، کچھ دیر ٹی وی کے سامنے بیٹھا رہا اور پھررات گئے سو گیا۔
صبح میری آنکھ فون کی بیل پر ہی کھلی۔ میں نے خمار بھری آنکھوں سے فون دیکھا تو ماہم کی کال تھی۔ میں نے کال ریسیو کر کے آنکھیں بند کرلیں۔
”مجھے اندازہ تھا کہ تم ابھی تک سورہے ہو گے۔ اس لیے فون کیا ہے میں نے“۔ اس نے ہنستے ہوئے کہا۔
”تمہارا انداز درست نکلا“۔ میں نے بھاری لہجے میں کہا تو وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر جلدی سے بولی۔
”اچھا جلدی سے اٹھواور پھر تیزی سے تیار ہو جاﺅ، ہمیں کہیں جانا ہے“۔
”کہاں جانا ہے، یہ تو میں نہیں پوچھوں گا، لیکن آپ کے حکم کے مطابق تیار ضرور ہو جاتا ہوں“۔ میں نے بھی خوشگوار انداز میں کہا۔
”چلیں، پھر دیر مت کریں، میں ہر دس منٹ بعد فون کر کے چیک کرتی رہوں گی“۔ یہ کہتے ہی اس نے فون بند کر دیا۔ میں چند لمحے فون کو تکتا رہا، پھر اٹھ کر باتھ روم کی جانب بڑھ گیا۔
میرے ناشتہ ختم کر لینے تک اس نے کئی بار فون کرلیا۔ میں نے چائے کا آخری سپ حلق سے اتارا اور خود اسے فون کر کے بتا دیا کہ میں تیار ہوں، بتاﺅ کہاں آنا ہے۔ اس نے شہر میں ایک جگہ بتائی جو سبزہ زار سے دس پندرہ منٹ کی ڈرائیو پر تھی۔ شاید اس نے مجھے اندر سے دیکھ لیا تھا، میرے رکتے ہی وہ باہر آگئی۔ اس کے ساتھ ہی اسد، رابعہ، تنویر کے علاوہ چند اور بھی کلاس فیلوز باہر آگئے۔ میں جلدی سے باہر آگیا۔ وہ سب خوب تیاری کر کے آئے ہوئے تھے۔ میں نے ان کی طرف دیکھ کر حیرت سے پوچھا۔
”خیریت تو ہے تم سب لوگ....“
”جناب جی کو تو جیسے معلوم ہی نہیںہے“۔ رابعہ نے یوں کہا، جیسے وہ ناراض سی ہو۔ تبھی فوراً ماہم بولی۔
”نہیں رابعہ، انہیں قطعاً پتہ نہیں ہم نے کہاں جانا ہے، میں نے انہیں بتایا ہی نہیں ہے“۔
”کیوں؟“ اب اس نے ماہم کی طرف گھور کر دیکھتے ہوئے کہا۔
”ایسے ہی سرپرائز کے لیے، میں نے سوچا کہیں انکار کرنے کے لیے کوئی بہانہ ہی نہ بنا دے“۔ ماہم نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا تو میں نے کہا۔
”چلو اب تو بتادو“۔
”ہم سب ہمارے فارم ہاﺅس پر جا رہے ہیں، پک نک کے لیے سارا دن وہیں گزاریں گے“۔ ماہم نے میری طرف دیکھ کر کہا اور اپنی گاڑ ی کی طرف بڑھ گئی۔ رابعہ میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی۔ پچھلی نشست پر اسد اور تنویر آ گئے، باقی سب لڑکیاں اور لڑکے اپنی اپنی گاڑیوں میں تھے۔ فریحہ ہی صرف ماہم کے ساتھ بیٹھ گئی۔ ہم کل سترہ تھے، جن کا قافلہ چلا تو بس پھر چلتا چلا گیا۔ ہمارے درمیان خاموش تھی ، جسے میں نے توڑا۔
”تم سب لوگ تو یوں خاموش ہو جیسے کسی خطرناک مہم پر جارہے ہو۔ کوئی بات وات کرویار“۔
”بات کیا کریں، کوئی ہے بات ایسی“۔ رابعہ نے سلگتے ہوئے کہا۔
”کیوں کیا ہوا؟“ میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
”جس دن سے آئے ہیں،کوئی دن پُرسکون نہیں گزرا، روزانہ کوئی نہ کوئی مسئلہ، کیمپس نہ ہوا۔ ہم تو کسی میدانِ جنگ میں آگئے ہیں“۔ اس نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔
”کہتی تو تم ٹھیک ہو، پہلے ہی دن سے ہمارے ساتھ ایسے ہی ہو رہا ہے“۔ تنویر گو پانگ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تو اسد بولا۔
”کوئی شک نہیںکہ رابعہ ٹھیک کہہ رہی ہے لیکن اب قسمت ہی میں ایسا ہے، اب بتاﺅ، ہم چاروں میں سے کوئی یہ جنگی قسم کے حالات چاہتا ہے۔ میرے خیال میں کوئی بھی نہیں“۔
”چھوڑو یار، کیوں مایوسی کی باتیں کرتے ہو، ان حالات کا مقابلہ کرنا ہو گا، یہی حقیقت ہے“۔ میں نے انہیں حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔
”وہ تو اب کرنا ہے ابان، لیکن ایسا بھی کیا، ہم یہاں پڑھنے آئے ہیں کوئی جنگ لڑنے نہیں“۔ رابعہ نے پھر اسی اکتائے ہوئے لہجے میں کہا تو میں ہنس دیا اور سکون سے بولا۔
”رابعہ.... کچھ دن کی بات ہے، سب ٹھیک ہو جائے گا، لیکن تم مجھے ایک بات بتاﺅ اتنا اکتائی ہوئی کیوں ہو؟“
”تمہیں نہیں معلوم ابان، یہ ہاسٹل میں نا، مجھے بہت زیادہ لڑکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے ہی فضول قسم کی باتیں کرتی رہتی ہیں۔ ہاں زیادہ سینئرز ہوتی ہیں نا“۔ اس نے روہانسو ہوتے ہوئے وجہ بتاتی تو میں سمجھ گیا، وہ بہت حد تک دباﺅ میں آگئی ہوئی تھی۔ ایسے وقت میں اسے حوصلہ دینا بہت ضروری تھا، اس لیے میں نے چند لمحے سوچ کر کہا۔
”رابعہ....! یقین جانو، مجھے تمہاری بہت ساری باتوں سے حوصلہ ملا ہے، ایک وقت تھا کہ میں بالکل مایوس ہو گیا تھا۔ تمہارے چند فقروں نے سمجھو مجھے ایک ایک نئی زندگی دے دی تھی۔ اب تم ہو کہ خود مایوس ہو رہی ہو، جو ہونا ہے، وہ ہو کر ہی رہے گا، تم دل چھوٹا مت کرو، مسکراﺅ، اسی طرح ہم نے ان حالات کا مقابلہ کرنا ہے؟“
”وہ تو ٹھیک ہے مگر....“ رابعہ نے زخمی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو اسد نے دھیمے سے لہجے میں کہا۔
”یقین جانو رابعہ، اس طرح تمہارا چہرہ بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا ہے۔ ذرا فریش فریش ہو جاﺅ، تو اس گاڑی میں بھی بہار آجائے۔ صرف ایک قہقہہ اور ماحول کو زندگی مل جائے گی“۔
وہ کچھ اس انداز سے بولا کہ رابعہ نے ایک ترچھی نگاہ اس پر ڈالی اور اپنے قہقہہ کو ضبط کرتے ہوئے بولی۔ ”تم بھی نا“۔
”چلو اب ....“ اسد نے کہا تو وہ دھیما سا ہنس دی۔” یہ ہوئی نا بات“۔
”اچھا مجھے یہ بتاﺅ، یہ ماہم نے اچانک کیسے پروگرام بنا لیا، کانوں کان خبر بھی نہ ہونے دی“۔ میں نے ماحول کو بدلنے کے لیے موضوع ہی بدل دیا ۔ اس وقت ہم شہر سے باہر آگئے تھے اور ہمارے دونوں طرف فصلیں لہلہارہی تھیں۔
”یقین جانیںابان، مجھے بالکل بھی معلوم نہیں تھا۔ ا س نے صبح فون کر کے مجھے کہا۔ ”رابعہ نے وضاحت کی۔ پھر کافی حد تک چھیڑنے والے انداز میں کہا۔ ”آپ خود ہی پوچھ لینا، وہ ہم سب سے زیادہ آپ کے قریب ہے“۔
”زہے نصیب، یہ کبھی سچ ہو جائے“۔ میں نے تیزی سے کہا تو سبھی ہنس دیئے۔ پھر سارا راستہ ایسی ہی باتوں میں کٹ گیا۔
ماہم کے فارم ہاﺅس تک پہنچے تو دوپہر ہو جانے والی تھی۔ چمکتی ہوئی دھوپ میں کئی ایکڑ پر پھیلا ہوا فارم ہاﺅس بالکل منفرد لگ رہا تھا ۔ اردگرد لہلہاتی فصلوں کے سر ے پر سفید عمارت اور پھر کے ساتھ پارک کی طرز پر پھیلے ہوئے لان بہت خوبصورت لگ رہے تھے۔ انہیں دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ یہاں خوب محنت کی گئی ہے اور یہ فارم ہاﺅس کسی نے دل سے بنایا ہے۔ پختہ فرش پر گاڑیاں روک دی گئیں، جس کے ساتھ ہی سبز لان میں سفید رنگ کی کرسیاں بچھی ہوئیں تھیں اور وہاں پر فارم ہاﺅس کے ملازمین کھڑے تھے۔ ہم سبھی وہیں جا بیٹھے تو ملازمین نے فوراً ہی ہمارے سامنے مختلف برانڈ کا سوڈا رکھ دیا۔ماہم مجھ سے ذرا فاصلے پر بیٹھی ہوئی تھی اور باتوں میں مصروف تھی۔ میں نے دائیں طرف بنی عمارت کو دیکھا اور پھر اردگرد کے ماحول کا جائزہ لیا۔ تبھی اچانک میرے ذہن میں ایک خیال بجلی کے کوندے کی طرح چمکا۔ یہ فارم ہاﺅس کہیں اس جگہ تو نہیں بنا ہے جو میرے پاپا کے گاﺅں کے قریب زمینیں تھیں۔ میرے دل میں شدید خواہش ابھری کہ انکل زریاب سے اس بارے میں معلومات لوں۔ مگر وہ موقعہ ایسا نہیں تھا کہ میں ان سے پوچھا سکتا۔ میں نے اپنی اس خواہش پر بڑی مشکل سے قابو پایا۔ میں نے سوچ لیا کہ جاتے ہی یہ ساری معلومات لوں گا۔ وہ کچھ ایسے لمحات تھے، جب میرے دل میں رک ہو ک سی اٹھی اور میں ایک طویل سانس لے کر رہ گیا۔ کچھ لمحے یونہی گزر گئے۔ تبھی ماہم نے سب کو متوجہ کرتے ہوئے کہا۔
”ہیلو فرینڈز....! آ ج کے دن میں یہ جو تھوڑا سا وقت ہم ساتھ گزاریں گے، یہ بہت پُرلطف ہونا چاہئے، کھانا ہم اکٹھے کھائیں گے، چاہیں تو یہیں اکٹھے رہیں اور جو گھومنا پھرنا چاہتے ہیں وہ اپنے طور پر انجوائے کر سکتے ہیں۔ شام چار بجے یہاں سے واپسی ہو گی، تب تک ہم یہاں اکٹھے ہو جائیں گے۔ ڈن....“ یہ کتے ہوئے اس نے سب کی طرف دیکھا۔
سبھی متفق دکھائی دیئے ۔ فارم ہاﺅس دیکھنے کا تجسس تو سب کو تھا۔ وہ سب دھیرے دھیرے اٹھنے لگے۔ یہاں تک کہ میں اور ماہم وہیں رہ گئے۔ اس نے میری جانب دیکھا اور بڑے خمار آلود سے لہجے میں بولی۔
”ہم بھی چلیں....“ تب میں نے اس کی طرف بہت غور سے دیکھا۔ وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
”کہاں....؟“ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تو وہ چند لمحے میری طرف دیکھتی رہی، پھر بولی۔
”آﺅ، اندر چلیں، میں نے آپ سے کچھ باتیں بھی کرنا ہیں“۔
”چلو....“ میں نے اٹھتے ہوئے کہا تو وہ بھی فوراً اٹھ گئی۔ سفید عمارت کی طرف بڑھتے ہوئے اس نے بڑے عجیب سے لہجے میں کہا۔
”ابان....! یہ فارم ہاﺅس میرے پاپا نے بہت شوق سے بنوایا ہے۔ وہ یہاں اکثر آتے رہتے ہیں اور پتہ ہے میں آج یہاں کیوں آئی ہوں....؟“
”مجھے کیا پتہ تمہارے دل میں کیا ہے“۔ میں نے یونہی کہہ دیا۔ بلاشبہ یہ فقرہ میرے لبوں سے یونہی پھسل گیا تھا۔ شاید کچھ دیر پہلے آنے والے خیال کا میرے ذہن پر اثر تھا۔ اسی وجہ سے ایسا ہو گیا تھا۔
”میرے دل میں....ہاں میرے دل میں کیا ہے، میں بہت کچھ کہنا چاہتی ہوں ابان لیکن.... شاید ابھی وقت نہیں۔ میں یہ بات کیسے کہوں، سمجھ میں نہیں آرہی“۔ وہ اپنا اظہار کرتے کرتے ایک دم سے گڑبڑا سی گئی تھی۔ پھر چند سیڑھیاں پار کرنے کے بعد وہ بولی۔ ”ہو جائیں گی یہ بھی باتیں....“ یہ کہتے ہوئے وہ ایک دم سے شوخ ہو گئی۔ میں اس کی پل پل بدلتی کیفیات کو دیکھ رہا تھا۔ ہم عمارت کے اندر چلے گئے۔ مختلف کمروں میں گھومتے، ان پر تبصرہ کرتے، میں کافی حد تک نارمل ہو چکا تھا۔ کچھ دیر پہلے جو کیفیت مجھ پر طاری ہو گئی تھی، وہ ختم ہو کر رہ گئی تھی۔ عمارت کی دوسری طرف ایک چھوٹی سی جھیل بنائی ہوئی تھی، جس کے درمیان سے ایک پختہ راستہ جارہا تھا اور عین جھیل کے وسط میں گول جگہ پر ختم ہو جاتا تھا۔ وہاں فائبر کی چھتری لگی ہوئی تھی۔ دائرہ میں لوہے کا جنگلا اورفائبر کی نشستیں بنی ہوئی تھیں۔ ماہم مجھے لے کر ایک جانب بڑھ گئی۔ ہم جھیل کے وسط میں ان فائبر کی نشستوں پر آن بیٹھے۔ وہاں سے اردگرد کا ماحول بڑا پُر کشش دکھائی دے رہا تھا۔ جھیل کا پانی اور کناروں پر اُگے ہوئے پودوں کے درمیان ان گنت کھلے ہوئے رنگین پھول۔ پس منظر میں سفید عمارت اور دوسری طرف سرسبز لہلہاتی ہوئی فصلیں، بڑے دلکش نظاروں میں گھرے ہم دونوں آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ماہم کی طرف دیکھا وہ میری جانب دیکھ رہی تھی۔ تب میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
”کیا دیکھ رہی ہو؟“
”یہی کہ تم اتنے اچھے کیوں لگ رہے ہو“۔یہ کہتے ہوئے وہ ایک دم سے کھلکھلا کر ہنس دی۔ جبکہ میں تذبذب میں پڑ گیا۔ کیا یہ اس کے دل کی آواز تھی یا کہ اس نے مزاح میں ایسا کہا تھا؟ میں نے ایک لمحے کو سوچا اور پھر مذاق ہی میں بولا۔
”میں اچھا ہوں.... اس لیے اچھا لگ رہا ہوں“۔
”یہ تو ہے....“ اس نے فوراً اعتراف کر لیا، پھر میری طرف دیکھ کر بولی۔ ”کل میں بہت ساری باتیں کہتے کہتے رک گئی جب تم نے سیڑھیاں اترتے ہوئے مجھ سے سچ پوچھا تھا۔ کل میں نے کاشف وغیرہ سے تمہیں ملوانا تھا، اس لیے وہ ماحول نہیں بنا.... کل شام میں نے فیصلہ کیا کہ یہاں بیٹھ کر تم سے باتیں کروں گی“۔
”ہوں.... اتنی اہم باتیں ہیں؟“ میں نے دلچسپی لیتے ہوئے کہا ۔ تو وہ چند لمحے میری طرف دیکھتی رہی پھر جذباتی لہجے میں بولی۔
”ہاں ابان....! تم مجھے بہت اچھے لگنے لگے ہو“۔
”واہ.... ! میری قسمت، تم جیسی حسین اور طرح دار لڑکی مجھے پسند کرنے لگے“۔ میں نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔
”میں کیا ہوں.... اسے چھوڑو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تم پہلی نگاہ ہی میں مجھے بہت اچھے لگے تھے، آئیڈیل کے قریب تر ہو، میں چاہے جتنا مغربی انداز پوز کروں، لیکن ہوں تو ایک مشرقی لڑکی، مجھے یہ اظہار نہیں کرنا چاہئے تھا، لیکن اس لیے کر دیا کہ میں اپنی چاہت کو بہت خاص رکھنا چاہتی ہوں۔ اتنا خاص، اتنا منفرد کہ وہ صرف میرے لیے ہو....“ وہ بڑے جذباتی انداز میں کہتے ہوئے کھو گئی تھی۔ میں نے اس کی طرف غور سے دیکھا ۔
”مطلب تم جملہ حقوق اپنے نام کر رہی ہو“۔ میں نے مسکراتے ہوئے مزاحیہ انداز میں کہا تو وہ تڑپ کر بولی۔
”ابان، اسے مذاق مت سمجھ، میں سیریس ہوں“۔
”اگر تم سیریس ہو، تو مجھے بھی اپنے ساتھ پاﺅ گی، یقین جانو، تمہارے جیسی اچھی اور خوبصورت لڑکی کا ساتھ ہو۔اس سے بڑھ کر میری خوش قسمتی کیا ہو سکتی ہے“۔میں نے بھی انتہائی سنجیدگی سے کہا تو اس نے بڑے ناز سے میرا ہاتھ تھام لیا اور لرزتے ہوئے لہجے میں بولی۔
”ابان....! زندگی نے مجھے سب کچھ دیا ہے اور وہ کچھ جو میں نے چاہا۔ نہ جانے کیوں تم مجھے اتنے اچھے لگنے لگے ہو۔ میں نے ہمیشہ من مانی کی ہے، لیکن تمہارے معاملے میں میرے دل نے میری ایک نہیں سنی۔ جو میرے خیالوں میں بسا ہوا تھا، تم ویسے ہی لگتے ہو، میں بس اتنا چاہتی ہوں کہ تم مجھے کبھی ہرٹ مت کرنا، جہاں تک جملہ حقوق کی بات ہے، میں اس نہیں گھبرانے والی، مجھے اپنی محبت پر یقین ہے، تمہاری جتنی بھی چاہنے والیاں ہوں گی میری محبت تمہیں میرے پاس لے آئے گی۔ میں بس یہ چاہتی ہوں کہ ....“ وہ کہتے کہتے رک گئی۔
”بولو، کیا چاہتی ہو؟“ میں جلدی سے پوچھا تو اس نے میرے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے کہا۔
”یہ تعلق جس قدر دنیا کی نگاہوں میں نہیں ہو گا، ہم اتنا ہی پُر سکون رہیں گے۔یہ تعلق اگر لوگوں کی زبان پر آگیا تو سمجھو ہمارے لیے مصیبتیں کھڑی ہو جائیں گی۔ دو سا ل بعد، جب ہم کیمپس سے جائیں گے تب دیکھا جائے گا کہ ہم نے کیا فیصلہ کرنا ہے میں تم پر کبھی بھی بوجھ نہیں بنوں گی، لیکن یہ دو سال میں تمہارے ساتھ پُر سکون گزار دینا چاہتی ہوں“۔
اس نے کچھ اس انداز سے کہا کہ میں حیران رہ گیا۔ وہ باتیں جو میں نے اس سے کہنا تھیں، یہ باتیں وہ کر رہی تھی اور اتنی جلدی وہ اپنا آپ میرے سامنے کھول کر رکھ دے گی؟ میں حیران اور متذبذب ہو گیا۔ شاید آسانی سے ہاتھ آ جانے والی چیز کے بارے میں ایسی ہی کیفیت ہو جاتی ہے، لیکن کیا وہ واقعتاً میرے ہاتھ آگئی ہے؟ یہی سوال میرے دماغ میں ٹھوکریں مارنے لگا۔ نہ جانے کیوں میرے دماغ میں یہ سوال اٹھنے لگا کہ چند روزہ تعلق اتنا گہرا نہیں ہوا کر تا، جس قدر ماہم ظاہر کر رہی ہے، پہلی نگاہ کی محبت کا میں قائل تھا یا نہیں، اگر ہو بھی تو کیا کوئی جذباتی پن میں اس قدر آگے بڑھ جاتا ہے کہ بات فیصلہ کرنے یا نہ کرنے تک آ پہنچی ہے۔ میں انہی خیالات میں کھویا ہوا تھا کہ ماہم نے میرے ہاتھ کودباتے ہوئے کہا۔ ”کیا سوچنے لگے ابان؟“
”کچھ نہیں“۔ میں نے چونکتے ہوئے کہا پھر مسکراتے ہوئے بولا۔ ”کتنا رومانوی خیال ہے ماہم، دنیا کی نگاہوں میں ہم صرف کلاس فیلو کی حد تک ہوں اور ایک دوسرے کے اتنے قریب ہو جائیں کہ ....“ میں نے جان بوجھ کر فقرہ ادھورا چھوڑ دیا۔
”بس، میں اب اپنی محبت کو آزماﺅں گی“۔ اس نے گہری نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا۔
”ہاں، ہمار ی محبت بالکل منفرد انداز میں پروان چڑھے گی“۔ میں نے کہا تو وہ قہقہہ لگا کر ہنس دی۔
پھر بولی۔ ”ابان....! تم بھی کیا سوچو گے، میں اتنی جلدی اپنا دل کھول کر تمہارے سامنے رکھ دیا“۔
”اچھا کیا نا، کوئی دوسرا اس دل پر قابض ہو جاتا“۔ میں نے کہا۔
”میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گی“۔ اس نے تیزی سے کہا اور میرا ہاتھ چھوڑ دیا۔ انہی لمحات میں مجھے خیال آیا تو میں نے اسی کے تحت کہا۔
”ماہم ، تم بہت خوبصورت ہو، اس میں کوئی شک نہیں، لیکن ایک شے تمہارے چاند سے حسن میں داغ کی مانند لگتی ہے“۔
”وہ کیا؟“ وہ بے ساختہ بولی۔
”یہی تمہاری زلفیں، انہیں تراشانہ کرو، مجھے لانبے بالوں والی لڑکی اچھی لگتی ہے“۔ میں نے اس کی طرف محبت پاش نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
”یہ تو کوئی بات نہ ہوئی، اب میں بال بڑھا لوں گی“۔ اس نے کہا اور میری طرف حیا بار آنکھوں سے دیکھا، انہی لمحات میں اس کا سیل فون بج اٹھا، اس نے دیکھا اور بولی۔ ”لو، کھانا لگ گیا، آئیں“۔
ہم دونوں سفید عمارت کی جانب بڑھ گئے۔ اس دوران وہ فون کر کے سب کو مطلع کرتی رہی۔ جبکہ میں اس کی باتوں میں کھویا ان کے معنی تلاش کرتا رہا۔
فارم ہاﺅس کے ملازمین نے کھانے پر خاصا اہتمام کیا ہوا تھا۔ سب نے خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا۔ پھر وہیں ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر باتیں کرتے رہے۔ یہاں تک کہ سہ پہر ہو گئی۔ سبھی واپس پلٹنے کے لیے پر تولنے لگے۔ واپسی پر گاڑی میں میرے ساتھ تنویر گوپانگ تھا۔ اسد اور رابعہ ایک دوسری گاڑی میں تھے۔ میں نے بیٹھتے ہی گاڑی سٹارٹ کی اور چل دیا۔
”وہ دونوں ادھر کیوں بیٹھ گئے ہیں“۔ میں نے یونہی سرسری انداز میں پوچھا تھا، جس پر تنویر نے میری طرف دیکھا اور لبوں پر خاص طرح کی مسکراہٹ لاتے ہوئے بولا۔
”یار اگر وہ دونوں خوشگوار ماحول چاہتے ہیں تو ہمیں ان کا خیال رکھنا چاہئے“۔
”مطلب....؟“ میں نے معنی خیز انداز میں پوچھا تو قہقہہ لگا کہ ہنس دیا۔ پھر بولا۔
”اگلی بار جب ہم یہاں پر آئے نا تو میری اپنی گاڑی ہوگی اور میں بھی کسی کو اپنے ساتھ نہیں بٹھاﺅں گا، سوائے ایک خصوصی مہمان کے ، ماہم نے بڑ ا اچھا موقعہ دیا ہے۔ ”تنویر نے بڑی گھما پھرا کر بات کی تو میں سمجھ گیا، رابعہ اور اسد میں کوئی نرم جذبہ پروان چڑھ گیا ہے۔ ہم دونوں آج کی اس پکنک کے بارے میں باتیں کرتے ہوئے جارہے تھے۔ میری گاڑی آگے تھی اور باقی پیچھے ، اتنی زیادہ رفتار بھی نہیں تھی۔ ہم ایک قافلہ کی صورت بڑے آرام سے جارہے تھے ۔ ایک جگہ پر موڑ تھا، جیسے ہی ہم وہاں پہنچے، میں نے گاڑی موڑی تو سامنے سڑک کے دائیں بائیں جانب دو گاڑیاں کھڑی ہوئی تھیں۔ ایک لینڈ کروزر تھی اور دوسری ہنڈا اکارڈ ، چشم زدن میں ان گاڑیوں کے دروازے کھلے، ان میں سے دو گنوں کی نالیں بر آمد ہوئیں اور فائر ہو گیا۔ ان کا نشانہ سیدھ میں نہیں تھا، بلکہ گاڑی کے ٹائر تھے، ایک کے بعد ایک دھماکا ہوا۔ میں فقط اتنا ہی دیکھ سکا کہ وہ گاڑیاں چل دی تھیں۔ میرے ہاتھوں میں اسٹیئرنگ بے قابو ہو گیا اور گاڑی ایک درخت سے جا ٹکرائی۔ پھر اس کے بعد اندھیرا چھا گیا۔ میں ہوش وحواس سے بے گانہ ہو گیا۔
l l
No comments:
Post a Comment