حصار
امجد جاوید
قسط نمبر5
تو پھر چلو تیار ہو جاﺅ، شاپنگ کے لئے
چلتے ہیں۔“
” آں .... چلیں۔“ثانیہ : وہ سوچتے ہوئے بے دلی سے بولی تو بیگم طلعت نے کہا
”میں ڈرئیور سے کہتی ہوں وہ گاڑی نکالے۔ تم جا کر تیار ہو جاﺅ ۔“
” ٹھیک ہے ۔“ وہ ایک لمحے میں مان گئی اوراٹھ کر اندر چلی گئی۔ بیگم طلعت نے اپنی ایک ملازمہ کو آواز دے کر رک گئی ۔
اس وقت ثانیہ اور اس کی ماما شہر کے ایک مشہور شاپنگ مال کے سامنے آ کر رُکے ہی تھے ۔ڈرائیور اس انتظار میں تھا کہ سامنے کی کاریں ایک طرف ہوں تو وہ پارکنگ میں چلا جائے۔انہی لمحات میں ثانیہ کی نگاہ ذیشان پر پڑی ، وہ بھی اپنی کار میں ان سے آ گے تھا۔وہ مسکرا دی کہ اسی نے ماما سے کہا ہو گا ۔ ابھی ان کے ڈرائیور نے کار پارکنگ میں نہیں لگائی تھی کہ ثانیہ نے دوبارہ ذیشان کو دیکھا ،اس کے ساتھ لڑکی کو دیکھ کر چونک گئی ،جو کار سے اتر ی تھی۔ وہ عشناءتھی۔ ذیشان ہی کے آ فس میں کام کرتی تھی اور وہ اس پر بہت اعتماد کرتا تھا۔ ثانیہ انہیں دیکھتی رہی ، دونوں ہنس رہے تھے ۔ اسے اچھا نہیںلگا۔ ان دونوں کی یہ بے تکلفی باس اور ملازم والی نہیں تھی ۔وہ چند لمحے سوچتی رہی ، پھر اپنا سیل فون نکال کے نمبر پش کر دئیے ۔
ثانیہ دیکھ رہی تھی ۔ ذیشان کا فون بج اٹھا تو اس نے پاس کھڑی عشناءکو اپنے سیل فون کی اسکرین دکھائی ۔ صاف ظاہر تھا کہ ذیشان اسے ثانیہ کے فون بارے بتا رہا تھا ۔ دونوں ہنس دئیے تھے۔ ذیشان نے کال ریسو کی اور شاپنگ مال کے اندر کی جانب چل دیا۔
” ہیلو ثانیہ ۔“ ذیشان کی آ واز ابھری
”ذیشان کہاں ہو؟“ اس نے پوچھا
”میں آفس میںہوں ، خیریت؟ “ اس نے کہا تو ثانیہ پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ، اس نے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا
”اوکے ، کچھ نہیں، بعد میںفون کرتی ہوں۔“فون بند کرتے ہوئے اس کا دل خون کے آ نسو رو یا تھا ۔ وہ خود کو سمیٹ رہی تھی کہ اس کی ماما نے پوچھا
”کیا بات ہے بیٹا،ذیشان ٹھیک تو ہے؟“
” ماما، واپس چلیں، میرے سر میں درد ہونے لگا ہے۔ “وہ اس قدرشدت سے بولی کہ بیگم طلعت بری طرح گھبرا گئی ۔ ثانیہ نے سیٹ کی پشت سے اپنا سر لگالیا۔تبھی بیگم طلعت نے تیزی سے ڈرائیورکو کہا
”ڈرائیور جلدی ہاسپیٹل چلو ۔“
یہ سنتے اس نے کار پارکنگ سے نکالی اور باہر کی سمت چل پڑا۔ثانیہ آنکھیں بند کئے سیٹ سے سر لگائے کراہ رہی تھی۔
رات ڈھل چلی تھی ۔ثانیہ اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔وہ شاپنگ مال سے سیدھی ہاسپیٹل گئی تھیں۔ وہاں تھوڑی دیر ہی میں ڈاکٹر ظہیر نے چیک کرنے کے بعد گھر بھیج دیا تھا ۔ اس نے جاتے ہی میڈیسن استعمال کرنے کی تاکید کی تھی۔ وہ تب سے یہیں بیڈ روم میں پڑی تھی ۔ اس کے ذہن میں یہی بات گھوم رہی تھی کہ ذیشان نے مجھ سے جھوٹ کیوں بولا؟ وہ کس لڑکی کے ساتھ تھا؟ اتفاق ہی سے سہی ، اگر وہ خود اپنی آنکھوں سے نہ دیکھتی تو ذیشان کا کہا سچ ہی سمجھتی۔وہ یہی سوچے چلے جا رہی تھی کہ اس کا سیل فون بج اٹھا۔ اسکرین پر ذیشان کے نمبر جگمگا رہے تھے۔ اس نے فون کال رسیو کرتے ہوئے کہا
”ہیلو....“
”اب کیسی طبعیت ہے؟“ ذیشان نے پیار بھرے لہجے میں پوچھا تو ثانیہ کو وہ زہر لگا۔ اس لئے اس نے کھردرے لہجے میں میں اتنا ہی کہا
”ٹھیک ہوں۔“
”مجھے پتہ چلا، پھر سے پین ہوا تھا؟“ اس نے پوچھا
”لیکن یہ تو پتہ نہیںہوگا نا،یہ پین ہوا کیوں؟“
”کیا مطلب ، میںسمجھا نہیں؟وہ تو ڈاکٹر ظہیر نے بتایا مجھے کہ تم ....“ اس نے کہنا چاہا تو ثانیہ نے بات کاٹتے ہوئے تیکھے لہجے میں کہا
” مجھے سمجھانے کی ضرورت بھی نہیںہے، کوئی کام تھا؟“
”ثانیہ ، یہ تم ہو، کیسی باتیںکر رہی ہو ، اور کس انداز میں؟“
ذیشان نے حیرت سے پوچھا تو وہ طنزیہ انداز میں بولی
” خود پر غور کرو ، پتہ چل جائے گا۔“
”یہ کیا کہہ رہی مجھے کچھ سمجھ میں نہیںآرہا؟“ذیشان نے اکتائے ہوئے لہجے میں پوچھا
”مجھے سمجھانے کی ضرورت نہیں، اور نہ مجھے تمہاری سمجھ آ رہی ہے ۔اس وقت میںبزی ہوں ، پھر بات کرتے ہیں۔ بائے۔“ثانیہ نے کہا
”او سنو....“ ذیشان نے کہا لیکن اس نے کوئی مزید بات نہ کرنے کے لئے کال کٹ دی۔ پھر سیل فون ایک طرف پھینک کر لیٹ گئی ۔ اس کے اندر آ گ لگ چکی تھی ۔
ژ.... ژ.... ژ
کرامت شاہ آنکھیںبند کئے بیٹھا تھا۔ جب پھوپھو فاخرہ بڑی مودب سی اس کے کمرے میں داخل ہوئی ۔ کرامت شاہ نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا اور اس وقت تک دیکھتا رہا ، جب تک وہ اس کے سامنے بیٹھ نہیں گئی ۔ کرامت شاہ نے اسے پریشان دیکھ کر عام سے لہجے میں پوچھا
”کیا بات ہے فاخرہ، پریشان کیوں ہو ، کام نہیںہوا کیا؟“
”کام تو ہوا بابا جی ، پر ایسے تو نہیںچاہا تھا، جیسے ہو گیا۔“وہ دھیمے سے لہجے میں بولی
”کیا ہو گیا، بتاﺅ گی کچھ؟“اس نے اکتائے ہوئے انداز میں پوچھا تو پھوپھو فاخرہ حیران کن انداز میں بولی
اس بے چاری بچی کی تو جان پر بن گئی ہے، ہسپتال جانا پڑا اسے ، ایسا سر درد ہوا اس کے.... کہ کیا بتاﺅں ۔“
” ارے فاخرہ ....اسے کچھ نہیںہوتا ، یہ تو ابھی شروعات ہیں،ہم نے عمل ہی ایسا کیا ہے، دو چار دن صبر کرو، پھر دیکھنا ،ہوتاکیا ہے۔“ کرامت شاہ نے لاپرواہی سے کہا
”دیکھنا بابا بےچاری کہیں....“ اس نے کہنا چاہا تھا کہ کرامت شاہ غصے میں بولا
” کہہ جو رہا ہوں ، کچھ نہیںہوتا۔“
” مان لیا کچھ نہیں ہوتا ، لیکن اسے تو اپنی پڑ گئی ، ہماری طرف کیسے مائل ہو گی ؟“ پھوپھو نے اپنا اصل مدعا کہا توبابا کرامت شاہ چند لمحے سوچتا رہا پھر بولا
” ہاں ، یہ ہے اصل بات ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے پاس پڑے اپنے صندوق میں سے ایک شیشے کی بوتل نکالی ۔اس میں چینی صاف دکھائی دے رہی تھی ۔ اس نے وہ بوتل سامنے رکھی اور اس پر کچھ پڑھنے لگا ۔ کچھ دیر پڑھتے رہنے کے بعد پھوپھو فاخرہ کی جانب بڑھا تے ہوئے بولا
” یہ لو۔“
”یہ چینی....؟“ پھوپھو نے حیرت سے پوچھا توکرامت شاہ مسکراتے ہوئے بولا
”میٹھی ہو تی نا.... کسی طرح کھلا دو اسے۔ تمہارے ساتھ اسی طرح میٹھی ہو جائے گی۔ پھر دیکھنا۔“
”جی ، میں کھلا دوں گی۔“پھوپھو فاخرہ نے یوں سر ہلاتے ہوئے کہا ، جیسے سب کچھ سمجھ گئی ہو ۔ اس نے وہ بوتل اپنے پرس میں رکھی ، پرس میں سے نوٹ نکال کر بابا کے سامنے رکھ دئیے۔ کرامت شاہ نے وہ نوٹ اٹھاتے ہوئے خوش کن لہجے میں کہا
” فاخرہ ، یہ بات تم بہت اچھی طرح سمجھتی ہو ، بس نوٹ دیتی جاﺅ اور کام لیتی جاﺅ ۔“
اس پر پھوپھو ذراسامسکرائی اور اٹھ کر کمرے سے نکلتی چلے گئی ۔ وہ وہاں سے پورے یقین کے ساتھ نکلی تھی ۔
پھوپھو فاخرہ واپس آ کر صوفے پر آلتی پالتی مار کر بیٹھی ہوئی تھی جب بیگم ثروت اندر سے آ کر سامنے والے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی
” کہاں گئی ہوئی تھی صبح سے ؟“
” اے کیا بتاﺅ ں، یہیں ساتھ والے پارک میں گئی تھی ، وہیں باتیں کرتے ہوئے پتہ ہی نہیںچلا۔اتنا دن چڑھ آیا ۔“
”آج پھر طلعت کا فون آیا تھا ، بتا رہی تھی ثانیہ بے چاری ابھی تک ٹھیک نہیںہوئی۔ کل پھر ہاسپیٹل جانا پڑا۔“ بیگم ثروت نے انتہائی دُکھ سے کہا
”ہائے ہائے ....کیاہو گیا بے چاری کو۔“ وہ واقعتاً حیرت زدہ ہوتے ہوئے بولی
”کچھ سمجھ میں نہیںآ رہا، میرا توبہت دل چاہتا ہے ، میں اسے دیکھ کر آﺅں، پتہ نہیںبے چاری کوکیا ہو گیا ہے ۔“ وہ روہانسا ہوتے ہوئے بولی
”تو دیکھ آﺅ نا، آج ہی چلتے ہیں، چل میںبھی تیرے ساتھ چلتی ہوں۔“ پھوپھو فوراً تیار ہو گئی تو بیگم ثروت نے ہچکچاتے ہوئے کہا
”وہ کہیں مراد علی ہی برا نہ مانے،ادھر شعیب ہے ،وہ نجانے ....“
”اے ہے ، پھر کیاہوا ، اگر مراد علی نے ایک سنائی نا تو اب کے میںدو سناﺅں گی۔ یہ بھلا کیا بات ہوئی ، رشتے ناطے بھی ٹوٹ جائیں گے کیا؟ اور شعیب کوبھی میں ہی سمجھا لوں ۔“
”دیکھ لو ۔“ اس نے ڈرتے ڈرتے یقین کر لینا چاہا تو پھوپھو اسے حوصلہ دیتے ہوئے بولی
” اس وقت اپنے آ فس میں ہوںگے ۔ ممکن ہے ان سے سامنا ہی نہ ہو ، انہیں پتہ ہی نہ چلے ، چل اٹھ ابھی چلتے ہیں۔“
”تو کیا ہمیںجانا چاہئے ، دیکھ لو؟“ اس نے ڈرتے ہوئے پوچھا تو پھوپھو فاخرہ نے تیزی سے کہا
”تم تو اپنی بہن کا دکھ بٹانے جا رہی ہونا، وہ بے چاری پھول سی بچی کو دیکھنے جا رہے ہیں۔“
” فاخرہ ، چل پھر چلتے ہیں۔“بیگم ثروت بے چارگی سے کہا تو پھوپھو فاخرہ کھڑے ہوتے ہو ئے بولی
”چلو، ابھی چلتے ہیں۔ تو آ ، میں ڈرائیور سے کہتی ہوں۔“
وہ جانے کے لئے تیارہو گئیں تھیں ۔
تقریباً دو گھنٹے بعدوہ ان کے ہاں جا پہنچیں ۔انہیں طلعت کے پاس بیٹھے زیادہ وقت نہیںہوا تھا کہ ثانیہ بھی وہیں آ گئی ۔ وہ چاروں بیٹھی ہوئی باتیں کر رہی تھیں۔
”بس کیا بتاﺅں ثروت، شاپنگ کے لئے گئے ہیں، وہیں اس کی پھر طبیعت خراب ہو گئی ، فوراً ہاسپیٹل گئے ، وہاں سے پھر گھر واپس آ ئے۔ میرا تو بہت دل گھبرا رہا ہے۔“
” میری بیٹی کو کیا ہو گیا ہے۔ کس کی نظر کھا گئی ۔ چند دن ہی میںکملا کر رہ گئی۔“ پھوپھو نے پیار جتاتے ہوئے کہا
”یہی سمجھ نہیںآ رہا کچھ بھی پتہ نہیںچل رہا۔“ بیگم طلعت نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے کہا
” اللہ کرم کرے گا ، سب ٹھیک ہو جائے گا ۔“ ثروت نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا تو ثروت نے ثانیہ سے کہا
” وہ دیکھو، کسی سے چائے کا تو کہو ۔“
”میں خودچائے بھیجتی ہوں آپ کے لئے۔“ ثانیہ نے اٹھتے ہوئے کہا توپھوپھو فاخرہ نے چونکتے ہوئے کہا
” ارے بٹیا ، تم لوگ بیٹھو، باتیںکرو، میںبنا کر لاتی ہوں۔ اپنی بیٹی کو میںاپنے ہاتھوں سے پلاﺅں گی۔“
یہ کہہ کر وہ جلدی سے اٹھی اور کچن کی طرف چلی دی۔
پھوپھو فاخرہ نے بڑے دھیان سے چائے بنا ئی ۔ ٹرے میںدھرے ایک کپ کو اٹھایا پھر اِدھر ُادھر دیکھا۔ کسی کو نہ پاکر و اس نے جلدی سے اپنے پرس میں سے پڑیا نکالی۔ اسے کھولا اور چینی چائے میںملا دی۔وہ کپ میں چمچ سے ہلاتے ہوئے مکاری سے مسکرا دی تھی ۔
پھو پھو ٹرے میں چائے کے مگ رکھے آ گئی۔جہاں وہ تینوں بیٹھی ہوئی باتیں کر رہی تھیں۔ سب کو چائے دینے کے بعد وہ آخر میں ثانیہ کو طرف کپ بڑھا دیا ، سب کے ساتھ وہ بھی پینے لگتی ہے ۔ سپ لینے کے بعدثانیہ بولی
”پھوپھو چائے میں میٹھا کچھ زیادہ نہیں ہے؟“
اس پر پھوپھوفاخرہ پہلے تو گھبرائی پھر خود پہ قابو پاکر زبردستی مسکراتے ہوئے بولی
” اچھا۔! بیٹا مجھے پتہ ہی نہیںچلا ، چل تو یہ سمجھ کر پی لے، اس چائے میںمیرا پیار بھی شامل ہے۔اس لئے زیادہ میٹھی بھی اچھی لگے گی ۔“
”اگر ایسا ہے تو پھر پی لیتی ہوں۔“ ثانیہ نے مسکرا تے ہوئے کہا اور دوسرا سپ لے لیا
”کتنی اچھی ہے میری بچی، خدا کرے نظر بد سے بچی رہے ۔“ پھوپھو فاخر نے پیار سے کہا تو بیگم ثروت حسرت سے بولی
”میری تو دعا ہے ثانیہ کی شادی ہو جائے تو میںبھی شعیب کی شادی کر دوں۔“
”کوئی لڑکی دیکھی ہے تم نے ؟کوئی نظر میںہے کیا؟“بیگم طلعت نے نگاہیںچراتے ہوئے پوچھا
”لڑکیاں تو کئی ساری ہیں میری نگاہ میں۔ پر شعیب بھی تو مانے۔ اب ثانیہ کی شادی ہو گئی نا ، پھر خود ہی مان جائے گا۔ نہیںمانے گا تو ہم منا لیںگی۔“ بیگم ثروت نے حتمی انداز میں کہا۔ اس سے پہلے کہ بیگم طلعت کچھ کہتی، داخلی دروازے میں سے مراد علی اند رآ گیا۔ اس نے پہلے بیگم ثروت کو دیکھا ، پھر پھوپھو پر نگاہ ڈالی ۔ ان دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے غصے اور طنزیہ انداز میں اپنی بیوی سے بولا
” انہیں یہاں کیوں بٹھایا ہوا ہے ، جب میںنے منع کیا ہو ا ہے ان لوگوں کو تو پھر یہ کیوں آئیںہیں میرے گھر میں؟“
یہ سنتے ہی پھوپھو کے تن بدن میں آگ لگ گئی ۔ اس کے چہرے پر غصہ امنڈ آ یا جبکہ بیگم ثروت کے چہرے پر ندامت چھا گئی ۔ بیگم طلعت کے چہرے پہ بے چارگی در آئی اور ثانیہ نے حیرت سے اپنے باپ کو دیکھا۔ چند لمحے کسی نے بات تک نہ کی ۔ پھربیگم طلعت نے دبے دبے غصے میں خود پر قابو پاتے ہوئے کہا
”کیا کہہ رہے ہیںآپ ،کیا قیامت آ گئی ہے۔یہ ثانیہ کی عیادت .... ‘ ‘
” تمہارا کیا خیال مجھے میرے ہی گھر میں ہونے والی بات کی خبر نہیں ہوتی۔ یہ جس وقت یہاں آ ئیں میں اسی وقت اپنے آفس سے نکل پڑا تھا۔“
وہ ابھی کہہ ہی رہا تھا کہ بیگم ثروت اپنی بے عزتی پر رُو پڑی۔پھوپھو فاخرہ نے دیکھا اورشعلہ بار نگاہوں سے مراد علی کی طرف دیکھتے ہوئے بولی
”اچھا نہیںکر رہے ہو مراد علی۔ ہم تو بچی کو دیکھنے آ گئے ۔ تمہیں یہ بھی برا لگا۔ یہ گھر ، جس سے تم آج ہمیںروک رہے ہو ، کس نے دیا، میرے بھائی نے، جب میرا بھائی تھا تو.... “
”چپ کر جا فاخرہ،ایک لفظ بھی مزید مت کہنا۔ آﺅ چلیں ۔ “ بیگم ثروت نے فاخرہ کے منہ پر ہاتھ رکھ کر روتے ہوئے کہا تو پھوپھو فاخرہ بے قابو ہوتے ہوئے بولی
”نہیں، میں ذرا اس سے بات کر ہی لوں۔ یہ کون ہوتا ہے ہمیں اس گھر سے روکنے والا۔ آج تک میں خاموش رہی ہوں ۔ کبھی جتایا نہیں اسے۔ کم از کم اس عورت کی تو عزت کرو ، جن کے تم پر احسان ہیں۔“
”لیکن میں اپنا گھر ....“مراد علی نے کہا چاہاتو پھوپھو نے غصے میں کہا
” تم ہو ہی احسان فراموش ،تم ....“
”خدا کے لئے فاخرہ، چپ ہو جاﺅ، چلو یہاں سے“بیگم ثروت نے روتے ہوئے اسے باہر کی جانب لے جاتے ہوئے کہا۔ پھوپھو اس کے ساتھ بڑھتی چلی گئی ۔ بیگم ثروت روتے ہوئے وہاں ہوئے نکلی تھی ۔
لاﺅنج میں کھڑی ثانیہ اور بیگم طلعت بے بسی میں انہیں جاتا ہوا دیکھتی رہیں۔ مراد علی نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا ، جس کے چہرے پر غصہ پھیلا ہوا تھا۔
”اپنا غصہ ختم کرو ، چلی گئی ہیں وہ ۔“
”مراد علی۔! میری بہن کس طرح رو کر یہاں سے گئی ہے ۔ احساس ہے آپ کو، اگر میں آپ کے کسی لگتے کو یہاں سے اس طرح ذلیل کر کے نکالوں تو....؟“بیگم طلعت نے دھیمی آواز میں کہا
”جب انہیں روکا گیا تھا، پھر کیا کرنے آئی تھیں وہ دونوں؟“مراد علی نے ہٹ دھرمی سے کہا
”وہ تو ثانیہ کی عیاد ت کو آ ئیں تھیں ، وہ میری بہن ہے ، میں کیسے چھوڑ دوں اُسے....؟ میں نہیں چھوڑ سکتی اسے۔“ اس نے حتمی لہجے میں جواب دیا
”اس کا بیٹا جو یہاں دھمکیاں دے کر گیا، اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے، بولو؟“ اس نے تیز لہجے میں پوچھا توبیگم طلعت بولی
”اس میںمیری بہن کا کیا قصور؟ کم از کم ثروت کے ساتھ آپ کو ایسا رویہ نہیںرکھنا چاہئے تھا، بہت دکھ ہواہے مجھے۔“
” ہاں پاپا۔! آپ کوثروت خالہ کے ساتھ اس طرح پیش نہیںآ نا چاہئے تھا۔ ہمارے سوا ان کا آخر ہے کون؟“ ثانیہ نے دُکھی لہجے میں کہا تو مراد علی نے یوں حیرت سے اس کی طرف دیکھا، جیسے اس نے کوئی انہونی بات کر دی ہو ۔ وہ چند لمحے ان دونوں کو حیرت سے دیکھتا رہا ، پھر غصے میں پلٹ کر باہر نکلتا چلا گیا۔
ذیشان کے آ فس میں اس کی کولیگ عشناءکے ساتھ ڈاکٹر ظہیر بیٹھا ہوا تھا۔ان تینوں کے چہروں پر گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔ اس خاموشی کو ذیشان نے توڑتے ہوئے کہا
”یار مجھے یہ سمجھ نہیںآ رہی ،آخر ثانیہ کو ہوا کیا ہے؟ وہ اب تک نارمل کیوں نہیں ہو رہی ہے۔“
”کیا مطلب؟“ ظہیر نے سنجیدگی سے پوچھا
”مطلب.... وہ بات بات پر غصہ کرتی ہے۔ جیسے وہ کچھ بھی برداشت نہیں کر پارہی ہے۔ذرا سی بات پر ہائیپر ہو جاتی ہے۔“
”یہ تمہارا اندازہ ہے یا تمہیں یقین ہے؟“عشناءنے پوچھا
”مجھے یقین ہے۔“ وہ بولا
” کیسے ؟ یہ تو بتاﺅ ۔“ ظہیر نے پوچھا
” یار میں نے اسے فون کیا ، اسے کہا کہ ماما تمہاری طرف آ نا چاہتی ہے ۔ وہ شادی کی شاپنگ کرنا چاہتی ، تم سے تمہاری پسند کے بارے میں بات کرنا چاہتی ہے ، مگر اس نے بات تو کی لیکن اس قدر روکھے انداز میں جیسے میں اس کے لئے اجنبی ہو گیا ہوں ۔“ ذیشان نے دکھ سے کہا
No comments:
Post a Comment